بزرگ جیالے کا بلاول بھٹو کو پیغام

ارشد سلہری
سیاسی جماعتوں کی طاقت عوام کی جڑت سے بنتی ہے۔ راسخ سیاسی نظریات سے لیس جماعتی کارکن جماعت میں موجود تنظیم کو ناقابل تسخیر بنا دیتے ہیں ۔ اقتدار ہو یا انقلاب ، منزل خود چلی آتی ہے۔ راسخ نظریات ، نظم ، تنظیم اور بہتر حکمت عملی کا نام ہی جماعت ہے۔ سیاسی جماعت محض جھنڈوں اور نعروں کانام نہیں ہے ۔ مختلف خیالات کے حامل لوگوں کے اجمتاع کو جماعت قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں سماج کی تعمیر کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ سیاسی تعلیم اور انسانی اخلاقیات کی بنیاد پر معاشرہ کی تشکیل کرتیں ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کی درجہ بدرجہ پرتوں میں معیار کو مدنظر رکھا جاتا ہے چونکہ سیاسی جماعت کے ذمہ داران نے قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے تعمیر کا فریضہ انجام دینا ہوتا ہے ۔ اگر نااہل اور غیرمعیاری ذمہ داران ہونگے تو پارٹی منظم اور فعال نہیں ہوسکے گی اور نہ ہی سماج کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ وطن پاک میں تشدد ، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے رجحانات میں اضافہ سیاسی جماعتوں کی کمزوریوں کا غماض ہے۔ جب سیاسی جماعتیں کمزور ہوں اور نئی قیادت کی تعمیر کا فریضہ ادا نہ کر رہی ہوں تو سماج میں نئی نئی جماعتوں کی بڑے پیمانے پر تشکیل ہوتی ہے۔ نظریات کی بھرمار سے سیاست ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہے۔ سیاسی گفتگو کی بجائے لطیفہ گوئی ، فحش گوئی اور گالی گلوچ کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔ آج ہمیں سماج میں سیاسی بے راہ روی ، لطیفہ گوئی اور اخلاقیات سے عاری بحثوں کے مظاہر کثرت سے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ لعنت بے شمار ، بے غیرت اور دیگر لغویات کی بہتات ہے۔ دلیل ، منطق ، سائنسی طرز فکر جیسے رویے ناپید ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بنتی بگڑتی ایسی صورتحال کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی اور عوامی جماعت ہونے کی بنا پر پیپلزپارٹی زیادہ قصور وار ہے۔بلکہ پیپلزپارٹی کا کردار مجرمانہ ہے۔ جس نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں ۔ آج بھی پیپلزپارٹی میں تنظیمی امور نقائص سے بھر پور ہیں ۔ تنظیمی ڈھانچے نامکمل ہونے کے ساتھ بہت کمزور بنیادوں پر بنائے جا رہے ہیں۔ جو تنظیمی امور میں قیادت کی عدم دلچسپی کا مظہر ہے۔حالانکہ پیپلزپارٹی کی نچلی سطح پر بہت تحرک اور جوش و خروش دیکھا گیا ہے۔ راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ روڈ جو وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کے حلقہ انتخاب ہے میں پیپلزپارٹی کا بظاہر کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا تھا ۔ مگر بلاول کے میدان سیاست میں اترتے ہی اڈیالہ روڈ سے پیپلزپارٹی کے پرانے وابستگان میں سے راجہ اعجاز نے نعرہ مستانہ لگایا اور پارٹی کا ترنگا لیکر میدان میں نکل پڑے۔ گزشتہ روز یوم مئی کے موقع پر راجہ اعجاز نے ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا ، مہمان خصوصی پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری تھے۔ جلسہ میں محنت کشوں ، پارٹی کارکنوں نے جوش و خروش سے شرکت کی ۔ جلسے کی گہما گمی میں ایک بزرگ گلے میں مزوروں کا سرخ جھنڈا ڈالے ہوئے نوجوانوں کی سی پھرتی سے انتظامی باگ دوڑ میں مگن تھا اور وقفے وقفے سے ساونڈ سسٹم پر محنت کشوں کیلئے شہید بھٹو کی خدمات بھی بیان کر رہا تھا ۔ دیکھا تو موصوف ماسٹر حسن اختر راجہ تھے ۔ جو کچھ دن پہلے تک مرجھائے چہرے کے ساتھ اپنی بیماری کی روداد سناتے پھر رہے تھے۔ جنہیں اپنی دواوں کے علاوہ کچھ یاد نہیں تھا۔ احوال پوچھنے پر گویا ہوئے ۔ کون کہتا ہے پیپلزپارٹی ختم ہوگی ہے۔( چھاتی پر ہاتھ مارتے ہوئے) پیلزپارٹی ہمارے دلوں میں ہے۔ مزور کا بھٹو زندہ ہے۔ ماسٹر حسن اختر 1973سے پیپلزپارٹی سے وابستہ ہیں۔ حقیقی نظریاتی جیالے ہیں ۔ عدم بصارت کے باعث سنتے اور سناتے ہیں ۔ سناتے کچھ زیادہ ہیں اگر کوئی پیپلزپارٹی کے خلاف بولے تو ماسڑحسن اختر میدان لگا لیتے ہیں ۔ مخالف کو تو پھر بھاگنا ہی پڑتا ہے۔ معلوم نہیں خبریں کہاں سے پاتے ہیں ۔ کہہ رہے تھے ۔ بلاول کو لکھو کہ پارٹی کی تنظیم پر توجہ دے۔ ابھی تنظیم سازی ادھور ی ہے۔ جب تک تنظیم نہیں ہوگی پارٹی منظم نہیں ہوسکتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے اندورنی حالات کمزور ہیں ۔ مضبوط تنظیم سے پارٹی میں نئی روح پھونکی جا سکتی ہے۔ ماسٹر صاحب کا بلاول کیلئے پیغام ہے کہ بلاول صوبائی صدور کو متحرک کریں ۔ مرکزی قیادت تنظیمی دورے کرے اور یونین کونسل تک تمام تنظیموں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

Advertisements
Posted in Uncategorized | Leave a comment

پیپلز پارٹی کی عوام میں واپسی

ارشد سلہری
نوازشریف جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس آئے تو پاکستان پیپلزپارٹی نے جمہوری اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر موقع پر نوازشریف کی حمایت کی اور سپورٹ کیا ۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کر تے ہوئے جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑا ہونے کو ترجیح دی تو سیاسی منظر نامہ یکسر بدل گیا ۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے عوام کا اعتماد جیت لیا تو آمریت کے پستبانوں کے پاس کوئی راستہ نہ بچا ،اور آخرکار بندوق کے ذریعے ایک بار پھر عوامی ارمانوں کو خون میں نہلادیا گیا ۔ عوامی غم و غصے کے سامنے جبر کی قوتوں گھٹنے ٹیکنے پڑے اور الیکشن کروا کر اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کو دیا گیا ۔ اقتدار کی بھول بھلیوں میں پیپلزپارٹی اور عوام اپنی قائد محترمہ بینظیر کے غم بھول گئی ۔ یہی موقع تھا ۔ جب نادیدہ قوتوں نے ایک بار پھر پیپلزپارٹی کے خلاف تلوار نیام سے باہر نکال لی اور شازشوں کے نئے تانتے بنے جانے لگے ۔ آہنی عزم رکھنے والی پارٹی قیادت آصف علی زرداری وار کھاتے ، سہتے اور نیا وار کھانے کیلئے پھر سے تیار نظر آتے ۔ چومکھی پانچ سال جاری رہی ۔ میڈیا ٹرائل اور بے تحاشا پروپیگنڈہ نے سچ کو جھوٹ کر دکھایا اور عوام کی عام پرتیں دھوکے بازوں کے فریب کا شکار ہوئیں ۔ فریب در فریب کے گن چکر میں عام عوام اس امر پر مزید فریب میں آگئی کہ نوازشریف اب وہ نواز شریف نہیں رہے ہیں جو ان کا کبھی خاصا ہوا کرتا تھا ۔ نوازشریف اب عوام کی امیدوں اور امنگوں کا پورا پورا خیال رکھتے ہوئے عوامی مشکلات دور کرینگے ۔ یہ پروپیگنڈہ میڈیا میں بھی زور و شور سے کیا گیا ۔ پیپلزپارٹی کو بزور قوت الیکشن سے باہر کردیا گیا ۔ طشتری میں رکھ کر اقتدار نواز شریف کی جھولی میں ڈالا گیا ۔ ابھی شریف اقتدار کو سال بھی نہیں گزرا تھا کہ شریف اپنی سابقہ روش پر لوٹ آئے اور عام عوام دن میں تارے دیکھنے پر مجبور کردیے گئے۔ شریف برادران کے انتخابی وعدے اور دعوے سراب ثابت ہوئے ۔ عام عوام بد دل ہوئے ، عوام میں مایوسی بڑھی تو شریف سرکار کو تحفظ دینے کے لے اقتدار دینے والوں نے حق ادا کیا اور ایسا جال بچھایا گیا کہ جس میں پھنسی مچھلی ب�آسانی بھاگ بھی جائے اور جال بھی محفوظ رہے ۔دھرنوں اور مارچ کے ذریعے عوامی غصہ اگزاسٹ کیا جاتا رہا ہے۔ یہ تاثر بھی دیکر کہ حکومت اور اسٹبلشمنٹ ایک صفحے پر نہیں ہیں سے عوام کو بیوقوف بنایا گیا ۔ یہ مقولہ سچ ثابت ہوا کہ لمبے عرصے تک کسی کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ نواز عمران نورا کشتی اور ریفری کے دوغلے پن عوام پر آشکار ہوئے اور عوام کو پھر سے اپنی روایت کی جانب پلٹنا پڑا ہے۔ سر پر پانی پڑا تو یاد آیا کہ پیپلزپارٹی میں سب برائیاں ہیں مگر عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت ماسوائے پیپلز پارٹی کے کوئی دوسری پارٹی نہیں ہو سکتی ہے ۔ حالات کتنے ہی خراب ہو ں ، بدترین صورتحال میں بھی پیپلزپارٹی ہی وہ عوام کی جماعت ہے ۔ جس نے محنت کشوں کو عزت و توقیر سے نوازا ، تنخواہوں میں دوسو فیصد اضافہ کیا۔ سات ہزار سے زیادہ برطرف ملازمین کو بحال کیا ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے بے سہاروں کا سہارا بنی ۔ محنت کشوں کو قومی اداروں میں بارہ فیصد کے حصص دیے ۔ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دیکر انہیں حق حکمرانی دیا گیا ۔ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھ کر شناخت دی۔ یہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی تھی ۔ جس نے پارلیمان کو بااختیا ر اور مضبوط بنایا اور مارشل لا کا راستہ روکا۔ یہ کام بطور صدر آصف زرداری ہی نے کیا ۔ اپنے اختیارات رضا کارانہ پارلیمنٹ کو سونپ دیے۔ صوبوں کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے خود مختاری دی گئی ۔ بلوچ عوام کو حقوق دینے کے اقدام آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے پیپلزپارٹی ہی نے اٹھائے ۔ چین سے تعلقات کو نئی جہت دیکر پاکستان کو امریکی سامراج سے آزاد بھی پیپلزپارٹی ہی نے کرایا۔ وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائے۔ عرب ریاستوں کو پھر سے پاکستان کا دوست بنایا گیا ۔ سی پیک جیسے میگا منصوبوں کے معاہدے آصف زرداری کے وژن کا شاہکار ہیں ۔ پاکستان کے باشعور اور غیور عوام نے جب بھی اپنے اجتماعی شعور کا اظہار کیا ہے ۔ جعلی اور تراشیدہ قیادتوں کو مسترد کیا ہے ۔ آج بھی کچھ قوتوں نے کبھی طاہر القادری کو میدان میں اتار کر عوام کو فریب دینے کی کوشش کی اور کبھی عمران خان کے نام سے تبدیلی کا جعلی نعرہ لگایا گیا ۔ وقت اور حالات نے ثابت کیا کہ پاکستان کے عوام درست فیصلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور عوام کا اجتماعی شعور اعلیٰ ہے۔ یہ پاکستان عوام کے اعلیٰ اجتماعی شعور ہی کا نتیجہ ہے کہ عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو عوامی امنگوں پر واپسی اختیار کرنا پڑی ہے ۔ پیپلزپارٹی نئی صف بندی اس امر کی غماز ہے کہ پارٹی میں وہی لوگ قیادت کے اہل ہوں گے جو کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات سے پاک ہوں گے اور جن کی سیاست بھٹو ازم ہوگی۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا وژن لیے قائد جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو کا عکس چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ایک ایک لفظ ترقی پسندانہ اور عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہے۔ پنجاب میں قمر زمان کائرہ اور ندیم افضل چن کا انتخاب اس امر کی گواہی ہے کہ چیئرمین بلاول عوام کی خواہشیات کے مطابق پیپلزپارٹی کی تعمیر نو کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے محنت کش ، ہاری ، مزدور اور غریب عوام جو فریب کا شکار ہوکر پیپلزپارٹی سے دور ہوئے تھے ۔ وہ واپسی کی راہ اختیار کر رہے ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھٹوازم کے بنیادی فلسفہ پر لوٹ رہی ہے۔ عوام اور پارٹی کا رشتہ بحال ہو چکا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی پاکستان کی عوام ہے۔ پاکستان کے عام عوام پاکستان پیپلزپارٹی ہیں ۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

ایم کیو ایم کا مقدمہ

ارشد سلہری
پاکستان مختلف قومیتی اکائیوں پر مشتمل ایک ایسی ریاست ہے ۔ جس میں قومی مسلہ ایک بھڑکتا ہوا شعلہ ہے ۔ ریاستی قوتیں اس مسلے کو حل کرنے کی بجائے طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں ۔ جس کے نتائج ملکی صوتحال سے عیاں ہیں ۔ کسی بھی طبقہ یا قوم کو تشدد کے ذریعے حب الوطنی کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا ہے ۔ الطاف حسین کے پاکستان مخالف نعروں سے پیدا صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ میڈیا سمیت عوامی سطح پر ایم کیوایم اور مہاجر قوم کے خلاف نفرت کی یلغار جاری ہے۔ریاستی ادارے متحدہ کے دفاتر مسمار کر ر ہے ہیں ۔ گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ ایک جنگ کی سی حالت پیدا کر دی گئی ہے۔ جو کسی بھی طور پر درست تاثر نہیں ہے۔ ایم کیو ایم ایک سیاسی پارلیمانی جماعت ہے ۔ جیسے دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش سے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے ۔ سیاسی قوقوں اور ریاستی اداروں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ملک کے دانشور طبقہ اور اہل قلم کو ایک راگ الاپنے کی بجائے اس بات کی جانب بھی دھیان کر نے کی ضرورت ہے کہ الطاف حسین پاکستان مخالف کیوں بولتے ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جب الطاف حسین آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن لیکر نکلے تو انہیں ڈاریا ، دھمکایا گیا ۔ ان پر کئی قاتلانہ حملے کیے گئے۔ بحیثیت مجموعی مہاجر وں کے ساتھ دیگر قوموں کا رویہ کیسا تھا ۔ بلخصوص پنجابی ، سندھی اور پختون مہاجروں کو کیسے دیکھتے تھے۔یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ باخبر حلقے بخوبی واقف ہیں۔ ایم کیو ایم نے ریاست کے خلاف بغاوت نہیں کی ہے۔ سخت ترین حالات کے باوجود کبھی ایم کیوں ایم نے ریاست کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے ہیں ۔ ہاں ریاست نے کئی بار ایم کیوں ایم کو کچلنے کی کوشش کی ہے ۔ دہشت گردی اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کے نام پر ایم کیوں ایم کی سرجری جاری ہے۔ان حالات میں اگر الطاف حسین نے پاکستان مخالف نعرے بازی کی ہے تو الطاف حسین کو پکڑا جائے ۔ ان خواتین اور کارکنان کا کیا قصور ہے جنہوں الطاف حسین کے نعرے کا جواب بھی نہیں دیا تھا۔ کہی ایسا تو انہیں ہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں کراچی کو بھی بلوچستان بنانا چاہتی ہیں ۔ ابھی وقت ہے ۔ درست راستہ اختیار کیا جائے ۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا فارمولہ ترک کرتے ہوئے بات چیت کی راہ اپنائی جائے ۔ مہاجر ہمارے اپنے ہیں ۔ کوئی گھس بیٹھیے نہیں ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں ۔ جنہوں نے پاکستان کے لئے جانیں قربان کیں ، اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان کیلئے مہاجرت اختیار کی ہے۔ یہ وہی الطاف حسین ہے جو 1971 میں پاکستان آرمی کا حصہ تھا۔ نفرت تو نفرت کے ہی بیج بوئے گی ۔ کیا ہم نے اپنے ماضی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے ۔ مشرقی پاکستان کے اچھے بھلے پاکستانی باشندوں کو ہم نے بنگالی بنادیا ۔ جنہیں ہم تھوڑی سی عزت دینے کو تیار نہیں تھے۔ جب انہوں اپنے حقوق کی بات کی تو انہیں غدار کہنے لگے۔ ہاں ، مجبور ہو کر وہ ہم سے علیحدہ ہوئے اور انہوں نے اپنا الگ گھر بنا لیا ۔ دیکھ لیں جاکر وہ ہم سے الگ ہو کر خوش اور خوشحال ہیں ۔ ہم اندر سے بہت تقیسم ہوچکے ہیں ۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے کوشش کرنی چاہیے نہ کہ مزید بگاڑ پیدا کیا جائے۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

Articles

This gallery contains 2 photos.

Rate this:

Gallery | Leave a comment

ایم کیو ایم کا مقدمہ

ارشد سلہری
پاکستان مختلف قومیتی اکائیوں پر مشتمل ایک ایسی ریاست ہے ۔ جس میں قومی مسلہ ایک بھڑکتا ہوا شعلہ ہے ۔ ریاستی قوتیں اس مسلے کو حل کرنے کی بجائے طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں ۔ جس کے نتائج ملکی صوتحال سے عیاں ہیں ۔ کسی بھی طبقہ یا قوم کو تشدد کے ذریعے حب الوطنی کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا ہے ۔ الطاف حسین کے پاکستان مخالف نعروں سے پیدا صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ میڈیا سمیت عوامی سطح پر ایم کیوایم اور مہاجر قوم کے خلاف نفرت کی یلغار جاری ہے۔ریاستی ادارے متحدہ کے دفاتر مسمار کر ر ہے ہیں ۔ گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ ایک جنگ کی سی حالت پیدا کر دی گئی ہے۔ جو کسی بھی طور پر درست تاثر نہیں ہے۔ ایم کیو ایم ایک سیاسی پارلیمانی جماعت ہے ۔ جیسے دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش سے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے ۔ سیاسی قوقوں اور ریاستی اداروں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ملک کے دانشور طبقہ اور اہل قلم کو ایک راگ الاپنے کی بجائے اس بات کی جانب بھی دھیان کر نے کی ضرورت ہے کہ الطاف حسین پاکستان مخالف کیوں بولتے ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جب الطاف حسین آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن لیکر نکلے تو انہیں ڈاریا ، دھمکایا گیا ۔ ان پر کئی قاتلانہ حملے کیے گئے۔ بحیثیت مجموعی مہاجر وں کے ساتھ دیگر قوموں کا رویہ کیسا تھا ۔ بلخصوص پنجابی ، سندھی اور پختون مہاجروں کو کیسے دیکھتے تھے۔یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ باخبر حلقے بخوبی واقف ہیں۔ ایم کیو ایم نے ریاست کے خلاف بغاوت نہیں کی ہے۔ سخت ترین حالات کے باوجود کبھی ایم کیوں ایم نے ریاست کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے ہیں ۔ ہاں ریاست نے کئی بار ایم کیوں ایم کو کچلنے کی کوشش کی ہے ۔ دہشت گردی اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کے نام پر ایم کیوں ایم کی سرجری جاری ہے۔ان حالات میں اگر الطاف حسین نے پاکستان مخالف نعرے بازی کی ہے تو الطاف حسین کو پکڑا جائے ۔ ان خواتین اور کارکنان کا کیا قصور ہے جنہوں الطاف حسین کے نعرے کا جواب بھی نہیں دیا تھا۔ کہی ایسا تو انہیں ہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں کراچی کو بھی بلوچستان بنانا چاہتی ہیں ۔ ابھی وقت ہے ۔ درست راستہ اختیار کیا جائے ۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا فارمولہ ترک کرتے ہوئے بات چیت کی راہ اپنائی جائے ۔ مہاجر ہمارے اپنے ہیں ۔ کوئی گھس بیٹھیے نہیں ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں ۔ جنہوں نے پاکستان کے لئے جانیں قربان کیں ، اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان کیلئے مہاجرت اختیار کی ہے۔ یہ وہی الطاف حسین ہے جو 1971 میں پاکستان آرمی کا حصہ تھا۔ نفرت تو نفرت کے ہی بیج بوئے گی ۔ کیا ہم نے اپنے ماضی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے ۔ مشرقی پاکستان کے اچھے بھلے پاکستانی باشندوں کو ہم نے بنگالی بنادیا ۔ جنہیں ہم تھوڑی سی عزت دینے کو تیار نہیں تھے۔ جب انہوں اپنے حقوق کی بات کی تو انہیں غدار کہنے لگے۔ ہاں ، مجبور ہو کر وہ ہم سے علیحدہ ہوئے اور انہوں نے اپنا الگ گھر بنا لیا ۔ دیکھ لیں جاکر وہ ہم سے الگ ہو کر خوش اور خوشحال ہیں ۔ ہم اندر سے بہت تقیسم ہوچکے ہیں ۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے کوشش کرنی چاہیے نہ کہ مزید بگاڑ پیدا کیا جائے۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

Interview

8

Image | Posted on by | Leave a comment

4

Image | Posted on by | Leave a comment