دس ارب کا سوال اور بریکٹ کی تحریریں


ارشد سلہری
سیاسی میدان پاکستان کے قیام کے روز سے ہی کچھ مشکوک رہا ہے۔ فلورکراسنگ سمیت سیاستدانوں کی وفا داریاں تبدیل کرنے کیلئے خفیہ ہاتھ کام کرتے رہے ہیں۔ راولپنڈی سے تعلقات کا الزام ہر سیاستدان اور جماعت کے سر کسی نہ کسی حوالے سے ضرور آیا ہے۔ واشنگٹن سے یاری کے طعنے بھی دیئے جاتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 1990میں سیاست کی نئی طرح ڈالی گئی ۔ سیاسی وفاداریوں کو بدلنے کیلئے جدید رجحانات در آئے ۔فلور کراسنگ اور پارلیمان کے ووٹوں کی بولی لگنے لگی ۔ راولپنڈی کی زیر سرپرستی جمہوری ا قدار کے مقابل بڑے اتحاد کی تشکیل کیلئے سیاسی منڈی کی اختراع سامنے آئی ۔ سنا گیا ہے کہ لاہور کے مضافات میں چھانگا مانگا کا پر فضا مقام سیاسی منڈی کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ اس وقت خریدار کی جانب سے فی نگ ایک کر وڑ روپے ریٹ لگایا تھا۔ قیمت پر بڑی ہا ہا کار مچی تھی۔چھا نگا مانگا کو آج بھی بطور مثال لیا جاتا ہے۔ چھانگا مانگا کی جدید سیاست کے بانی میاں نواز شریف کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو چکا تھا کہ جدہ یاترہ نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ سچ بھی ہے۔ میاں صاحب بہت بدل چکے ہیں ۔ پہلے سے زیادہ سیانے ہوگئے ہیں۔ جج ، جرنیل ، جرنلسٹس سمیت سیاسی لوگ سب اب میاں صاحب کی عزت کرتے ہیں ماسوائے نئے سیاستدان عمران خان کے جو کھلن کو مانگے ہے چاند ، دس ارب اچھی خاصی رقم ہے۔ کوئی پوچھے انکار کرکے کیا پایا ہے۔ فائدہ سیاست کا، لگتا ہے ۔ بندے کا دماغ نہیں ہے۔ بھائی یہ دور کون سا جا رہا ہے۔ دس ارب قیمت ٹھیک ہی تو ہے۔ زیادہ کوئی نہیں دے گا۔کسی اور نے پکڑ لیے تو ۔ بات نکلتی ہے تو دور تلک جاتی ہے۔ پھر وہی ہوا۔ پیش کار منڈی کے اصول کا پابند ، گاہک ایک نہیں سو ، مقصود مطلوب کام ہے ۔ عمران نہیں تو کوئی اور سہی ۔ پانامہ لیکس کون سا کسی کا ذاتی مسلہ ہے۔ ڈان لیکس کا مسلہ حل ہو سکتا ہے تو باقی مسائل کیا رہ جاتے ہیں ۔دس ارب کا سوال اب اتنا پیچیدہ نہیں رہا ہے۔ اس امر کی شہادت میاں صاحب کی مسکراہٹ اور خوداعتمادی میں خاطر خواہ اضافہ اور میاں صاحب کی فرینڈلی گوشمالی بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ ہاتھ کا دیا ہوا ہی کام آتا ہے۔ اشاریے تو بہت ہیں جنہیں ضبط تحریر میں لانا حب الوطنی کو مشکوک بنانے کے مترادف ہوگا،
پیپلزپارٹی کی طرف انگلی کی جائے تو جمہوریت کے پائیدان کو کمزور کرنے کی سازش کا الزام آتاہے۔ قومی ریاستی اداروں سے غدار ی کا میں سوچ بھی نہیں سکتا ہوں۔ پھر جب عوام کے جذبات ، عوام کی امیدوں اور خوابوں کی جانب دھیان جاتا ہے تو اس پر بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ ، چمن سے آ رہی ہے بو کباب ، کسی بلبل کا دل جلا ہوگا۔
ایڈیٹرز اور قارئین کیلئے ضروری نوٹ: آپ جناب سرکار کی جانب سے اعتراض آسکتا ہے۔ درج ذیل تحر یر میں خاص جملہ ، کنایہ اور استعارہ کے موقع پر کوئی بریکٹ نہیں لگایا گیا ہے ۔ نہ ہی کومے کا استعمال کیا ہے۔ حاشیہ بازی بھی نہیں کی گئی ہے۔ اعتراض درست ہے ۔ مگر حضور والا آج زمانہ بدل گیا ہے۔ تمام امکانات سامنے آچکے ہیں ۔ شرافت ، دیانت ، امانت ، اصول ، اخلاقیات ، انقلاب ، جمہوریت اور حب الوطنی کو جو کبھی معانی پہنائے جاتے رہے ہیں ۔ آج وہ معانی عملی تصویر بن کر سامنے جلوہ گر ہیں ۔ بریکٹوں میں لکھنے کی ضرورت ختم ہوچکی ہے۔ جو پہلے حساس ادارہ تھا ۔ اب وہ پاکستان کی فوج ہے۔ میاں نوازشریف کی اصولی سیاست کا بھانڈہ بھی چوراہے میں پھوٹ گیا ہے۔ خفیہ ہاتھ بھی اب خفیہ نہیں رہے ہیں ۔ تو پھر بریکٹ میں لکھنے کو بچا ہی کیا ہے

Advertisements

About arshadsulahri

human rights Activist , writer , journalist, poltical activist.This is the official Arshad Sulahri. Welcome, and thank you everyone for joining. Please share your insight, views and opinions on this page. I want to hear from you, your
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s