پیپلز پا رٹی پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ کے حضور

ارشد سلہری
پیپلزپارٹی میں نئی تنظیم سازی کی ابھی بازگشت تھی ۔ بلاول بھٹو زرداری چیئرمین بن چکے تو پنجاب میں جیالے قمرزمان کائرہ کو صوبائی صدر کیلئے موزوں قرار دینے لگے تھے۔ ندیم افضل چن بھی فیورٹ تھا۔ پنجاب میں تنظیم سازی ہوئی تو قمرزمان کائرہ صوبائی صدر اور ندیم افضل چن جنرل سیکرٹری بنادیئے گئے۔ جیالوں نے بلاول کے فیصلے پر جشن منایا کہ نظریاتی اور حقیقی لیڈرشپ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اب امتحان نئی لیڈر شپ کا تھا کہ ڈویژنل ، اضلاع اور تحصیل کی سطح پر تنظیم سازی کی جائے ۔ قمرزمان کائرہ کے صدر بننے سے آج تک تنظیم سازی کا جائزہ لیا جائے تو جو صورتحال سامنے آتی ہے ۔ انتہائی مایوس کن ہے۔ پنجاب میں صوبائی تنظیم سمیت تمام ڈویژن اور اضلاع کی تنظیمیں نہ صرف ادھوری ہیں بلکہ نقائص سے بھر پور ہیں ۔ جس سے قمرزمان کائرہ اور ندیم افضل چن کی تنظیم سازی میں عدم دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ قمرزمان کائرہ نے تاحال صوبائی تنظیم بھی مکمل نہیں کی ہے جبکہ دوسر ی جانب موصوف نے کسی ضلع کا کوئی تنظیمی دورہ نہیں کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا ۔ صوبائی صدر اور جنرل سیکرٹری آپس میں اضلاع کو تقسیم کرلیتے اور جب تک تنظیمیں مکمل نہ ہوتیں اپنے اپنے اضلاع میں موجود رہتے ۔ تنظیمی عہدوں کے امیدواروں سے خود انٹرویوز کرتے اور ہر ضلع کی تنظیم مکمل کر کے ضلع سے باہر نکلتے اور تحصیل کی تنظیم سازی کو بھی خود مانیٹر کرتے ۔ اس عمل سے ایک تو مضبوط تنظیمیں تشکیل پاتیں اور دوسرا گروپ بندی کی کھچری بھی نہ پکتی ۔ جس کا آج ہر سطح کی تنظیم شکار ہے۔ تنظیمی سطح صوبائی کی بے خبری کی یہ صورت ہے راولپنڈی ڈویژن کا صدر اس شخص کو بنایا گیا جو صدر بنتے ہی پارٹی چھوڑ گیا ۔ اسی طرح راولپنڈی کی ضلعی تنظیم میں بھی کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔ جس سے پارٹی میں سیدھار کی بجائے بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ ضلعی صدر اور جنرل سیکرٹری صرف فوٹو سیشن اکٹھا کروا لیتے ہیں ۔ دوسری کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔ تنظیم سازی کا عمل شدید اختلافات کا شکار ہے۔ ضلعی تنظیم ابھی تک نامکمل ہے۔ تحصیل کی تنظیمیں ادھوری پڑی ہیں۔ راولپنڈی سٹی کی تنظیم کے سوا کوئی تنظیم مکمل نہیں کی گئی ہے۔ طرفہ تماشا ہے کہ صوبائی قیادت ساری صورتحال سے لاتعلق نظر آتی ہے۔ قمرزمان کائرہ شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ تنظیم خود بخود ہی بن جائے گی۔ یا تنظیمیں بنا کر ان کے حضور پیش کردی جائیں گی۔ کائرہ صاحب اگر آپ چاہتے ہیں کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی سر اٹھائے تو اس کیلئے باہر نکلنا پڑے گا۔ جب تک آپ اپنی تنظیم مکمل نہیں کرتے ہیں تب تک پیپلزپارٹی میں جان نہیں پڑ سکتی ہے۔ پیپلزپارٹی اب کوئی بھٹو نہیں ہے۔ اب تنظیم ہوگی تو نتائج حاصل ہونگے۔ دوسرے فارمولے اب کہیں کام نہیں آئیں گے ۔ اگر آپ تنظیم سازی پر توجہ دیں تو راقم پیشگی خوشخبری دے رہا کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کو فتح سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔جذباتی تقاریر اور نعرے بازی سے اب کی بار کام چلنے والا نہیں ہے۔ اپوزیشن پیپلزپارٹی کرے یا تحریک انصاف اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پارٹی کی اندورنی پرتوں میں صف بندی سے ضرور فرق پڑے گا۔ مندرجہ بالا باتوں سے آپ اچھی طرح آگاہ ہیں ۔ لیکن معلوم نہیں ہے ۔ کیوں آپ چپ سادھے ڈنگ ٹپاو پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور ٹوکن مظاہروں پر اکتفا کرتے ہوئے پارٹی چلانے کی کوشش میں نظر آتے ہیں ۔ پارٹی جیالوں نے جو توقعات آپ سے وابستہ کر رکھی تھیں اس کے مظاہر کہیں دیکھائی نہیں دے رہے ہیں ۔ وجوہات کیا ہیں ۔ کارکن نہیں جانتے ہیں ۔ کارکن تو قیادت کی جانب دیکھتے ہیں ۔ کائرہ صاحب کارکنوں میں تنظیم سازی کے امور میں قیادت کی عدم دلچسپی سے مایوسی پائی جاتی ہے۔ مایوس کارکنوں کے ساتھ بڑے بڑے دعوے اور بڑیکیں اور فتح کی امید کو کیا نام دیا جائے۔ کبھی فرصت کے لمحوں میں غور ضرور کرنا ۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

پیپلزپارٹی کا دکھ

 ارشد سلہری
پیپلزپارٹی نے مدمقابل جماعتوں اور محالفین کے طرز سیاست کا جواب ان ہی کی زبان میں دینے کی بجائے ہمیشہ جمہوری اصولوں کی پاسداری کو مقدم رکھا اور ہمیشہ کئی محاذ پر مات کھائی ہے۔ انتقامی سیاست سے گریز کیا ہے۔شہید بے نظیر بھٹو نے تو موم کی گڑیا کا کردار نبھایا۔ باپ کے قتل کا غم ، بھائیوں کی جدائی ، شوہر کی قید تنہائی، پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کا قتل اور اپنے اوپر ہونے والے بیشمار مظالم کے باوجود شہید رانی نے پاکستان کے استحکام ، غریب عوام کے حقوق کی خاطر نواز شریف کو بھائی قرار دیااور سیاست کی نئی طرح ڈالنے کیلئے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔ اس کے بر عکس مدمقابل قوتوں نے پروپیگنڈا وار میں اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے شرمناک کردار ادا کیا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت سمیت کارکنوں کیخلاف جھوٹے مقدمات بنا کر پابند سلاسل کیا۔ قومی اور عوامی منصوبوں کو محض اس بنا پر سبوتاژ کیا کہ پیپلزپارٹی کے شروع کردہ تھے۔ پیپلزپارٹی کو میدان سیاست سے باہر کرنے کیلئے غیرجمہوری ہتھکنڈے استعمال کیے گئے ۔ کبھی آئی جے آئی بنا کر سیاستدانوں کی خریدو فروخت کی گئی اور کبھی چھانگا منگا میں منڈی سجا کر پارلیمنٹ کے کارکنان کی بولیاں لگائی گئیں۔ قتل و غارت گری کے بازار گرم کیے گئے۔ کبھی مذہبی انتہا پسندی کو پیپلزپارٹی کے مقابل لا کر حق و باطل کا بکھیڑا کھڑا کیا گیا۔ طالبان سے ہاتھ ملا کر پیپلزپارٹی کی قیادت کو راستے سے ہٹانے سمیت ہر وہ کوشش کی گئی جس پیپلزپارٹی کا نام و نشان باقی نہ رہے ۔ اتنے زخم کھانے کے بعد بھی پیپلزپارٹی نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور جب محالفین ہر طرف سے گھیرے میں آچکے تھے تو پیپلزپارٹی ہی نے غیر ت جمہوریت میں رائے ونڈ کو خون آشام غیرجمہوری آسیب سے نجات دلائی۔ یہ وہی آصف زرداری تھے جنہیں ناکردہ گناہوں کے جرم میں قید و بند رکھا گیا اور بے شمار جھوٹے مقدمات میں پھسا کر جس کی زندگی عذاب بنادی گئی تھی ۔ دنیا نے کھلی آنکھوں سے دیکھا پھر وہی آصف زرداری نے ہر موڑ پر نواز شریف کی گرتی ہوئی دیواروں کو کندھا دیاہے۔یہ پیپلزپارٹی جمہوری سیاست ہے یا پیپلزپارٹی کا جرم ہے ۔ فیصلہ عوام کریں گے کہ 1990کی سیاست کا خالق کس رعایت کا مستحق ہے۔ جس نے آج بھی روش نہیں بدلی ہے۔ جس کے میڈیا منیجر آج بھی نفرت کا کاروبار کر رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی ہے ۔ جس نے میڈیا منیجر رکھنے کا تکلف ہی نہیں کیا ہے۔ محالفین کے خلاف میڈیا پروپیگنڈا تو دور کی بات ہے۔ جو ڈھنگ سے اپنا دفاع بھی نہیں کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی اپنا میڈیا سیل ضرور بناتی ہے لیکن کبھی اس میں کوئی پروفشنل صحافی یا تجربہ کار میڈیا منیجر نہیں بیٹھایا ہے۔ خدا جانے پیپلزپارٹی میڈیا کے لوگ کہا ں سے لاتی ہے۔ حالانکہ پیپلزپارٹی کے ہم خیال منجے ہوئے صحافی بے شمار ہیں ۔ یہ نہیں کہ پیپلزپارٹی مدمقابل قوتوں سے انہی کی زبان میں بات کرے مگر یہ ضروری ہے کہ اپنا میڈیا مضبوط کرے اور کم ازکم اپنا بھرپور دفاع کرے ۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں میڈیا سیل انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ میڈیا سیل بنیادی طور پر پروپیگنڈا سیل ہوتا ہے ۔ پروپیگنڈا ضروری نہیں کہ منفی ہو۔ پروپیگنڈا اپنے پروگرام ، منشور اور پارٹی کی پرموشن کیلئے بھی کیا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کا دکھ یہی ہے کہ پیپلزپارٹی سب کچھ ہونے کے باوجود مات کھانے پر تلی ہوئی نظر آتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چین کے ساتھ معاہدے ، ملازمتوں کی فراہمی ، بے نظرانکم سپورٹ سمیت بے شمار ایسے کام ہیں جس سے پیپلزپارٹی ایکبار پھر عوام میں مقبول ہو سکتی ہے ۔ مگر اس کیلئے پیپلزپارٹی کو پریس ریلیز میڈیا نہیں بلکہ حقیقی میڈیا جو موقع بہ موقع پیپرز جاری کرے ۔ میڈیا پارٹی کے مصوبہ جات اور محالفین کی کمزوریوں کو اجاگر کرے ۔ پارٹی کے اندر نیوز لیٹرز اتارے ۔ پروگرامز کا انعقاد کرے ۔اپنی قوت اور صلاحیت سے غفلت ہی اصل میں پیپلزپارٹی کا دکھ ہے۔
Posted in Uncategorized | Leave a comment

دس ارب کا سوال اور بریکٹ کی تحریریں

ارشد سلہری
سیاسی میدان پاکستان کے قیام کے روز سے ہی کچھ مشکوک رہا ہے۔ فلورکراسنگ سمیت سیاستدانوں کی وفا داریاں تبدیل کرنے کیلئے خفیہ ہاتھ کام کرتے رہے ہیں۔ راولپنڈی سے تعلقات کا الزام ہر سیاستدان اور جماعت کے سر کسی نہ کسی حوالے سے ضرور آیا ہے۔ واشنگٹن سے یاری کے طعنے بھی دیئے جاتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 1990میں سیاست کی نئی طرح ڈالی گئی ۔ سیاسی وفاداریوں کو بدلنے کیلئے جدید رجحانات در آئے ۔فلور کراسنگ اور پارلیمان کے ووٹوں کی بولی لگنے لگی ۔ راولپنڈی کی زیر سرپرستی جمہوری ا قدار کے مقابل بڑے اتحاد کی تشکیل کیلئے سیاسی منڈی کی اختراع سامنے آئی ۔ سنا گیا ہے کہ لاہور کے مضافات میں چھانگا مانگا کا پر فضا مقام سیاسی منڈی کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ اس وقت خریدار کی جانب سے فی نگ ایک کر وڑ روپے ریٹ لگایا تھا۔ قیمت پر بڑی ہا ہا کار مچی تھی۔چھا نگا مانگا کو آج بھی بطور مثال لیا جاتا ہے۔ چھانگا مانگا کی جدید سیاست کے بانی میاں نواز شریف کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو چکا تھا کہ جدہ یاترہ نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ سچ بھی ہے۔ میاں صاحب بہت بدل چکے ہیں ۔ پہلے سے زیادہ سیانے ہوگئے ہیں۔ جج ، جرنیل ، جرنلسٹس سمیت سیاسی لوگ سب اب میاں صاحب کی عزت کرتے ہیں ماسوائے نئے سیاستدان عمران خان کے جو کھلن کو مانگے ہے چاند ، دس ارب اچھی خاصی رقم ہے۔ کوئی پوچھے انکار کرکے کیا پایا ہے۔ فائدہ سیاست کا، لگتا ہے ۔ بندے کا دماغ نہیں ہے۔ بھائی یہ دور کون سا جا رہا ہے۔ دس ارب قیمت ٹھیک ہی تو ہے۔ زیادہ کوئی نہیں دے گا۔کسی اور نے پکڑ لیے تو ۔ بات نکلتی ہے تو دور تلک جاتی ہے۔ پھر وہی ہوا۔ پیش کار منڈی کے اصول کا پابند ، گاہک ایک نہیں سو ، مقصود مطلوب کام ہے ۔ عمران نہیں تو کوئی اور سہی ۔ پانامہ لیکس کون سا کسی کا ذاتی مسلہ ہے۔ ڈان لیکس کا مسلہ حل ہو سکتا ہے تو باقی مسائل کیا رہ جاتے ہیں ۔دس ارب کا سوال اب اتنا پیچیدہ نہیں رہا ہے۔ اس امر کی شہادت میاں صاحب کی مسکراہٹ اور خوداعتمادی میں خاطر خواہ اضافہ اور میاں صاحب کی فرینڈلی گوشمالی بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ ہاتھ کا دیا ہوا ہی کام آتا ہے۔ اشاریے تو بہت ہیں جنہیں ضبط تحریر میں لانا حب الوطنی کو مشکوک بنانے کے مترادف ہوگا،
پیپلزپارٹی کی طرف انگلی کی جائے تو جمہوریت کے پائیدان کو کمزور کرنے کی سازش کا الزام آتاہے۔ قومی ریاستی اداروں سے غدار ی کا میں سوچ بھی نہیں سکتا ہوں۔ پھر جب عوام کے جذبات ، عوام کی امیدوں اور خوابوں کی جانب دھیان جاتا ہے تو اس پر بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ ، چمن سے آ رہی ہے بو کباب ، کسی بلبل کا دل جلا ہوگا۔
ایڈیٹرز اور قارئین کیلئے ضروری نوٹ: آپ جناب سرکار کی جانب سے اعتراض آسکتا ہے۔ درج ذیل تحر یر میں خاص جملہ ، کنایہ اور استعارہ کے موقع پر کوئی بریکٹ نہیں لگایا گیا ہے ۔ نہ ہی کومے کا استعمال کیا ہے۔ حاشیہ بازی بھی نہیں کی گئی ہے۔ اعتراض درست ہے ۔ مگر حضور والا آج زمانہ بدل گیا ہے۔ تمام امکانات سامنے آچکے ہیں ۔ شرافت ، دیانت ، امانت ، اصول ، اخلاقیات ، انقلاب ، جمہوریت اور حب الوطنی کو جو کبھی معانی پہنائے جاتے رہے ہیں ۔ آج وہ معانی عملی تصویر بن کر سامنے جلوہ گر ہیں ۔ بریکٹوں میں لکھنے کی ضرورت ختم ہوچکی ہے۔ جو پہلے حساس ادارہ تھا ۔ اب وہ پاکستان کی فوج ہے۔ میاں نوازشریف کی اصولی سیاست کا بھانڈہ بھی چوراہے میں پھوٹ گیا ہے۔ خفیہ ہاتھ بھی اب خفیہ نہیں رہے ہیں ۔ تو پھر بریکٹ میں لکھنے کو بچا ہی کیا ہے

Posted in Uncategorized | Leave a comment

Articles

This gallery contains 10 photos.

Rate this:

Gallery | Leave a comment

بزرگ جیالے کا بلاول بھٹو کو پیغام

ارشد سلہری
سیاسی جماعتوں کی طاقت عوام کی جڑت سے بنتی ہے۔ راسخ سیاسی نظریات سے لیس جماعتی کارکن جماعت میں موجود تنظیم کو ناقابل تسخیر بنا دیتے ہیں ۔ اقتدار ہو یا انقلاب ، منزل خود چلی آتی ہے۔ راسخ نظریات ، نظم ، تنظیم اور بہتر حکمت عملی کا نام ہی جماعت ہے۔ سیاسی جماعت محض جھنڈوں اور نعروں کانام نہیں ہے ۔ مختلف خیالات کے حامل لوگوں کے اجمتاع کو جماعت قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں سماج کی تعمیر کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ سیاسی تعلیم اور انسانی اخلاقیات کی بنیاد پر معاشرہ کی تشکیل کرتیں ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کی درجہ بدرجہ پرتوں میں معیار کو مدنظر رکھا جاتا ہے چونکہ سیاسی جماعت کے ذمہ داران نے قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے تعمیر کا فریضہ انجام دینا ہوتا ہے ۔ اگر نااہل اور غیرمعیاری ذمہ داران ہونگے تو پارٹی منظم اور فعال نہیں ہوسکے گی اور نہ ہی سماج کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ وطن پاک میں تشدد ، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے رجحانات میں اضافہ سیاسی جماعتوں کی کمزوریوں کا غماض ہے۔ جب سیاسی جماعتیں کمزور ہوں اور نئی قیادت کی تعمیر کا فریضہ ادا نہ کر رہی ہوں تو سماج میں نئی نئی جماعتوں کی بڑے پیمانے پر تشکیل ہوتی ہے۔ نظریات کی بھرمار سے سیاست ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہے۔ سیاسی گفتگو کی بجائے لطیفہ گوئی ، فحش گوئی اور گالی گلوچ کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔ آج ہمیں سماج میں سیاسی بے راہ روی ، لطیفہ گوئی اور اخلاقیات سے عاری بحثوں کے مظاہر کثرت سے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ لعنت بے شمار ، بے غیرت اور دیگر لغویات کی بہتات ہے۔ دلیل ، منطق ، سائنسی طرز فکر جیسے رویے ناپید ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بنتی بگڑتی ایسی صورتحال کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی اور عوامی جماعت ہونے کی بنا پر پیپلزپارٹی زیادہ قصور وار ہے۔بلکہ پیپلزپارٹی کا کردار مجرمانہ ہے۔ جس نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں ۔ آج بھی پیپلزپارٹی میں تنظیمی امور نقائص سے بھر پور ہیں ۔ تنظیمی ڈھانچے نامکمل ہونے کے ساتھ بہت کمزور بنیادوں پر بنائے جا رہے ہیں۔ جو تنظیمی امور میں قیادت کی عدم دلچسپی کا مظہر ہے۔حالانکہ پیپلزپارٹی کی نچلی سطح پر بہت تحرک اور جوش و خروش دیکھا گیا ہے۔ راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ روڈ جو وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کے حلقہ انتخاب ہے میں پیپلزپارٹی کا بظاہر کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا تھا ۔ مگر بلاول کے میدان سیاست میں اترتے ہی اڈیالہ روڈ سے پیپلزپارٹی کے پرانے وابستگان میں سے راجہ اعجاز نے نعرہ مستانہ لگایا اور پارٹی کا ترنگا لیکر میدان میں نکل پڑے۔ گزشتہ روز یوم مئی کے موقع پر راجہ اعجاز نے ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا ، مہمان خصوصی پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری تھے۔ جلسہ میں محنت کشوں ، پارٹی کارکنوں نے جوش و خروش سے شرکت کی ۔ جلسے کی گہما گمی میں ایک بزرگ گلے میں مزوروں کا سرخ جھنڈا ڈالے ہوئے نوجوانوں کی سی پھرتی سے انتظامی باگ دوڑ میں مگن تھا اور وقفے وقفے سے ساونڈ سسٹم پر محنت کشوں کیلئے شہید بھٹو کی خدمات بھی بیان کر رہا تھا ۔ دیکھا تو موصوف ماسٹر حسن اختر راجہ تھے ۔ جو کچھ دن پہلے تک مرجھائے چہرے کے ساتھ اپنی بیماری کی روداد سناتے پھر رہے تھے۔ جنہیں اپنی دواوں کے علاوہ کچھ یاد نہیں تھا۔ احوال پوچھنے پر گویا ہوئے ۔ کون کہتا ہے پیپلزپارٹی ختم ہوگی ہے۔( چھاتی پر ہاتھ مارتے ہوئے) پیلزپارٹی ہمارے دلوں میں ہے۔ مزور کا بھٹو زندہ ہے۔ ماسٹر حسن اختر 1973سے پیپلزپارٹی سے وابستہ ہیں۔ حقیقی نظریاتی جیالے ہیں ۔ عدم بصارت کے باعث سنتے اور سناتے ہیں ۔ سناتے کچھ زیادہ ہیں اگر کوئی پیپلزپارٹی کے خلاف بولے تو ماسڑحسن اختر میدان لگا لیتے ہیں ۔ مخالف کو تو پھر بھاگنا ہی پڑتا ہے۔ معلوم نہیں خبریں کہاں سے پاتے ہیں ۔ کہہ رہے تھے ۔ بلاول کو لکھو کہ پارٹی کی تنظیم پر توجہ دے۔ ابھی تنظیم سازی ادھور ی ہے۔ جب تک تنظیم نہیں ہوگی پارٹی منظم نہیں ہوسکتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے اندورنی حالات کمزور ہیں ۔ مضبوط تنظیم سے پارٹی میں نئی روح پھونکی جا سکتی ہے۔ ماسٹر صاحب کا بلاول کیلئے پیغام ہے کہ بلاول صوبائی صدور کو متحرک کریں ۔ مرکزی قیادت تنظیمی دورے کرے اور یونین کونسل تک تمام تنظیموں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

پیپلز پارٹی کی عوام میں واپسی

ارشد سلہری
نوازشریف جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس آئے تو پاکستان پیپلزپارٹی نے جمہوری اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر موقع پر نوازشریف کی حمایت کی اور سپورٹ کیا ۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کر تے ہوئے جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑا ہونے کو ترجیح دی تو سیاسی منظر نامہ یکسر بدل گیا ۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے عوام کا اعتماد جیت لیا تو آمریت کے پستبانوں کے پاس کوئی راستہ نہ بچا ،اور آخرکار بندوق کے ذریعے ایک بار پھر عوامی ارمانوں کو خون میں نہلادیا گیا ۔ عوامی غم و غصے کے سامنے جبر کی قوتوں گھٹنے ٹیکنے پڑے اور الیکشن کروا کر اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کو دیا گیا ۔ اقتدار کی بھول بھلیوں میں پیپلزپارٹی اور عوام اپنی قائد محترمہ بینظیر کے غم بھول گئی ۔ یہی موقع تھا ۔ جب نادیدہ قوتوں نے ایک بار پھر پیپلزپارٹی کے خلاف تلوار نیام سے باہر نکال لی اور شازشوں کے نئے تانتے بنے جانے لگے ۔ آہنی عزم رکھنے والی پارٹی قیادت آصف علی زرداری وار کھاتے ، سہتے اور نیا وار کھانے کیلئے پھر سے تیار نظر آتے ۔ چومکھی پانچ سال جاری رہی ۔ میڈیا ٹرائل اور بے تحاشا پروپیگنڈہ نے سچ کو جھوٹ کر دکھایا اور عوام کی عام پرتیں دھوکے بازوں کے فریب کا شکار ہوئیں ۔ فریب در فریب کے گن چکر میں عام عوام اس امر پر مزید فریب میں آگئی کہ نوازشریف اب وہ نواز شریف نہیں رہے ہیں جو ان کا کبھی خاصا ہوا کرتا تھا ۔ نوازشریف اب عوام کی امیدوں اور امنگوں کا پورا پورا خیال رکھتے ہوئے عوامی مشکلات دور کرینگے ۔ یہ پروپیگنڈہ میڈیا میں بھی زور و شور سے کیا گیا ۔ پیپلزپارٹی کو بزور قوت الیکشن سے باہر کردیا گیا ۔ طشتری میں رکھ کر اقتدار نواز شریف کی جھولی میں ڈالا گیا ۔ ابھی شریف اقتدار کو سال بھی نہیں گزرا تھا کہ شریف اپنی سابقہ روش پر لوٹ آئے اور عام عوام دن میں تارے دیکھنے پر مجبور کردیے گئے۔ شریف برادران کے انتخابی وعدے اور دعوے سراب ثابت ہوئے ۔ عام عوام بد دل ہوئے ، عوام میں مایوسی بڑھی تو شریف سرکار کو تحفظ دینے کے لے اقتدار دینے والوں نے حق ادا کیا اور ایسا جال بچھایا گیا کہ جس میں پھنسی مچھلی ب�آسانی بھاگ بھی جائے اور جال بھی محفوظ رہے ۔دھرنوں اور مارچ کے ذریعے عوامی غصہ اگزاسٹ کیا جاتا رہا ہے۔ یہ تاثر بھی دیکر کہ حکومت اور اسٹبلشمنٹ ایک صفحے پر نہیں ہیں سے عوام کو بیوقوف بنایا گیا ۔ یہ مقولہ سچ ثابت ہوا کہ لمبے عرصے تک کسی کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ نواز عمران نورا کشتی اور ریفری کے دوغلے پن عوام پر آشکار ہوئے اور عوام کو پھر سے اپنی روایت کی جانب پلٹنا پڑا ہے۔ سر پر پانی پڑا تو یاد آیا کہ پیپلزپارٹی میں سب برائیاں ہیں مگر عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت ماسوائے پیپلز پارٹی کے کوئی دوسری پارٹی نہیں ہو سکتی ہے ۔ حالات کتنے ہی خراب ہو ں ، بدترین صورتحال میں بھی پیپلزپارٹی ہی وہ عوام کی جماعت ہے ۔ جس نے محنت کشوں کو عزت و توقیر سے نوازا ، تنخواہوں میں دوسو فیصد اضافہ کیا۔ سات ہزار سے زیادہ برطرف ملازمین کو بحال کیا ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے بے سہاروں کا سہارا بنی ۔ محنت کشوں کو قومی اداروں میں بارہ فیصد کے حصص دیے ۔ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دیکر انہیں حق حکمرانی دیا گیا ۔ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھ کر شناخت دی۔ یہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی تھی ۔ جس نے پارلیمان کو بااختیا ر اور مضبوط بنایا اور مارشل لا کا راستہ روکا۔ یہ کام بطور صدر آصف زرداری ہی نے کیا ۔ اپنے اختیارات رضا کارانہ پارلیمنٹ کو سونپ دیے۔ صوبوں کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے خود مختاری دی گئی ۔ بلوچ عوام کو حقوق دینے کے اقدام آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے پیپلزپارٹی ہی نے اٹھائے ۔ چین سے تعلقات کو نئی جہت دیکر پاکستان کو امریکی سامراج سے آزاد بھی پیپلزپارٹی ہی نے کرایا۔ وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائے۔ عرب ریاستوں کو پھر سے پاکستان کا دوست بنایا گیا ۔ سی پیک جیسے میگا منصوبوں کے معاہدے آصف زرداری کے وژن کا شاہکار ہیں ۔ پاکستان کے باشعور اور غیور عوام نے جب بھی اپنے اجتماعی شعور کا اظہار کیا ہے ۔ جعلی اور تراشیدہ قیادتوں کو مسترد کیا ہے ۔ آج بھی کچھ قوتوں نے کبھی طاہر القادری کو میدان میں اتار کر عوام کو فریب دینے کی کوشش کی اور کبھی عمران خان کے نام سے تبدیلی کا جعلی نعرہ لگایا گیا ۔ وقت اور حالات نے ثابت کیا کہ پاکستان کے عوام درست فیصلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور عوام کا اجتماعی شعور اعلیٰ ہے۔ یہ پاکستان عوام کے اعلیٰ اجتماعی شعور ہی کا نتیجہ ہے کہ عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو عوامی امنگوں پر واپسی اختیار کرنا پڑی ہے ۔ پیپلزپارٹی نئی صف بندی اس امر کی غماز ہے کہ پارٹی میں وہی لوگ قیادت کے اہل ہوں گے جو کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات سے پاک ہوں گے اور جن کی سیاست بھٹو ازم ہوگی۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا وژن لیے قائد جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو کا عکس چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ایک ایک لفظ ترقی پسندانہ اور عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہے۔ پنجاب میں قمر زمان کائرہ اور ندیم افضل چن کا انتخاب اس امر کی گواہی ہے کہ چیئرمین بلاول عوام کی خواہشیات کے مطابق پیپلزپارٹی کی تعمیر نو کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے محنت کش ، ہاری ، مزدور اور غریب عوام جو فریب کا شکار ہوکر پیپلزپارٹی سے دور ہوئے تھے ۔ وہ واپسی کی راہ اختیار کر رہے ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھٹوازم کے بنیادی فلسفہ پر لوٹ رہی ہے۔ عوام اور پارٹی کا رشتہ بحال ہو چکا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی پاکستان کی عوام ہے۔ پاکستان کے عام عوام پاکستان پیپلزپارٹی ہیں ۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

ایم کیو ایم کا مقدمہ

ارشد سلہری
پاکستان مختلف قومیتی اکائیوں پر مشتمل ایک ایسی ریاست ہے ۔ جس میں قومی مسلہ ایک بھڑکتا ہوا شعلہ ہے ۔ ریاستی قوتیں اس مسلے کو حل کرنے کی بجائے طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں ۔ جس کے نتائج ملکی صوتحال سے عیاں ہیں ۔ کسی بھی طبقہ یا قوم کو تشدد کے ذریعے حب الوطنی کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا ہے ۔ الطاف حسین کے پاکستان مخالف نعروں سے پیدا صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ میڈیا سمیت عوامی سطح پر ایم کیوایم اور مہاجر قوم کے خلاف نفرت کی یلغار جاری ہے۔ریاستی ادارے متحدہ کے دفاتر مسمار کر ر ہے ہیں ۔ گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ ایک جنگ کی سی حالت پیدا کر دی گئی ہے۔ جو کسی بھی طور پر درست تاثر نہیں ہے۔ ایم کیو ایم ایک سیاسی پارلیمانی جماعت ہے ۔ جیسے دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش سے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے ۔ سیاسی قوقوں اور ریاستی اداروں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ملک کے دانشور طبقہ اور اہل قلم کو ایک راگ الاپنے کی بجائے اس بات کی جانب بھی دھیان کر نے کی ضرورت ہے کہ الطاف حسین پاکستان مخالف کیوں بولتے ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جب الطاف حسین آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن لیکر نکلے تو انہیں ڈاریا ، دھمکایا گیا ۔ ان پر کئی قاتلانہ حملے کیے گئے۔ بحیثیت مجموعی مہاجر وں کے ساتھ دیگر قوموں کا رویہ کیسا تھا ۔ بلخصوص پنجابی ، سندھی اور پختون مہاجروں کو کیسے دیکھتے تھے۔یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ باخبر حلقے بخوبی واقف ہیں۔ ایم کیو ایم نے ریاست کے خلاف بغاوت نہیں کی ہے۔ سخت ترین حالات کے باوجود کبھی ایم کیوں ایم نے ریاست کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے ہیں ۔ ہاں ریاست نے کئی بار ایم کیوں ایم کو کچلنے کی کوشش کی ہے ۔ دہشت گردی اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کے نام پر ایم کیوں ایم کی سرجری جاری ہے۔ان حالات میں اگر الطاف حسین نے پاکستان مخالف نعرے بازی کی ہے تو الطاف حسین کو پکڑا جائے ۔ ان خواتین اور کارکنان کا کیا قصور ہے جنہوں الطاف حسین کے نعرے کا جواب بھی نہیں دیا تھا۔ کہی ایسا تو انہیں ہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں کراچی کو بھی بلوچستان بنانا چاہتی ہیں ۔ ابھی وقت ہے ۔ درست راستہ اختیار کیا جائے ۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا فارمولہ ترک کرتے ہوئے بات چیت کی راہ اپنائی جائے ۔ مہاجر ہمارے اپنے ہیں ۔ کوئی گھس بیٹھیے نہیں ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں ۔ جنہوں نے پاکستان کے لئے جانیں قربان کیں ، اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان کیلئے مہاجرت اختیار کی ہے۔ یہ وہی الطاف حسین ہے جو 1971 میں پاکستان آرمی کا حصہ تھا۔ نفرت تو نفرت کے ہی بیج بوئے گی ۔ کیا ہم نے اپنے ماضی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے ۔ مشرقی پاکستان کے اچھے بھلے پاکستانی باشندوں کو ہم نے بنگالی بنادیا ۔ جنہیں ہم تھوڑی سی عزت دینے کو تیار نہیں تھے۔ جب انہوں اپنے حقوق کی بات کی تو انہیں غدار کہنے لگے۔ ہاں ، مجبور ہو کر وہ ہم سے علیحدہ ہوئے اور انہوں نے اپنا الگ گھر بنا لیا ۔ دیکھ لیں جاکر وہ ہم سے الگ ہو کر خوش اور خوشحال ہیں ۔ ہم اندر سے بہت تقیسم ہوچکے ہیں ۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے کوشش کرنی چاہیے نہ کہ مزید بگاڑ پیدا کیا جائے۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment