news

This gallery contains 8 photos.

Advertisements

Rate this:

Gallery | Leave a comment

Articles

This gallery contains 10 photos.

Rate this:

Gallery | Leave a comment

Political activities

This gallery contains 8 photos.

Rate this:

Gallery | Leave a comment

نوازشریف پنجاب اور پنجابیوں کا غدار ۔۔ ارشد سلہری

Source: نوازشریف پنجاب اور پنجابیوں کا غدار ۔۔ ارشد سلہری

Posted in Uncategorized | Leave a comment

نئے صوبوں کا قیام وفاق کی بقا کا مسئلہ ہے

نئے صوبوں کا قیام وفاق کی بقا کا مسئلہ ہے

Posted in Uncategorized | Leave a comment

ملی مسلم لیگ ،تحریک لیبک اور شرمین عبید چنائے

ارشد سلہری
لاہور کے ضمنی الیکشن میں محترمہ کلثوم نواز کے مدمقابل امیدواروں میں دو نئی سیاسی پارٹیوں تحریک لیبک پاکستان اور ملی مسلم لیگ کے امیدوار بھی میدان میں اترے۔انتخابی اشارئیے سے اس امر کی شہادتیں موصول ہوئیں کہ مذکورہ نئی سیاسی جماعتوں کے دونوں امیدواروں کو اس تناسب سے ووٹ پڑے ہیں کہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ تحریک لیبک پاکستان اور ملی مسلم لیگ کو پذیرائی ملی ہے۔دونوں نئی سیاسی جماعتوں کو ملنے والی پذیرائی سے بعض لبرل حلقوں ، میڈیا اور سول سوسائٹی میں بہت شور اٹھا کہ شدت پسند ہیں ۔ انتہا پسند ہیں وغیرہ ۔پارلیمنٹ میں جانا چاہتے ہیں ۔ انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔بعض نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ کی پست پناہی ہے۔زیادہ شور ملی مسلم لیگ کو لیکر اٹھایا جا رہا تھا ۔جس طرح آجکل قلم کار شرمین عبید چنائے کے ایک ٹویٹ پر ٹوٹ پڑے ہیں اور کالموں کی بھر مار کردی ہے۔ایسے لگتا ہے لکھنے والے موضوعات کے بانجھ پن کا شکار ہیں ۔شرمین عبیدچنائے پر تو جیسے ادھار کھائے بیٹھے تھے۔شرمین عبید چنائے نے وضاحت بھی دیدی ہے کہ اصل معاملہ کیا ہے ۔اس کا اپنے خاندان کے بارے میں کہنے کا مطلب کیا تھا۔آسکرایوارڈ حاصل کرنے کے بعد تو ویسے ہی وہ مجرم ٹھہری ہے۔جیسے ملالہ نوبل انعام ملنے کے بعد اب پاکستان کا رخ نہیں کر سکتی ہے۔کل کو کچھ ملالہ کہ منہ سے بھی نکل سکتا ہے۔ پھر ملالہ کی خیر نہیں ہے۔چگل کرچھوڑیں گے۔ملی مسلم لیگ اور تحریک لیبک پاکستان کو لیکر بھی بہت کچھ لکھا گیا ۔ کالموں کی منڈی کئی دن تک لگی رہی ۔ حافظ سعید ، مولانا خادم رضوی ، اشرف جلالی اور ان کے رفقاء کا سیاست میں آنے فیصلہ اتنا ہی خوش آئند اور بروقت ہے۔ جتنا افواج پاکستان کا سیاست سے دور رہنا ہے۔پاکستان جس صورتحال سے دوچار ہے۔مذہبی جماعتوں کی سیاسی دھارے میں شمولیت اور انتخابی سیاست میں آنے سے عدم برداشت ، شدت اور انتہا پسندی ختم ہوگی۔بات چیت کوفروغ ملیگا۔ مذہبی اور سیاسی قوتوں کو ایکدوسرے کو سننے کاموقع میسر ہوگا۔جس سے ایک توازن پیدا ہونے کی قوی امید کی جاسکتی ہے۔باالفاظ دیگرمذہبی قوتوں نے جمہوری طرز سیاست قبول کیا ہے۔یہ امر جمہوری قوتوں کی کامیابی ہے۔ اگر اسٹبلشمنٹ کا کیا دھرا ہے ۔تب اسٹبلشمنٹ بامراد ٹھہری ہے۔ جس نے جمہوری جدوجہد کی درست راہ دکھائی ہے۔یعنی اظہار تشکر کی ضرورت ہے۔جمہوریت کیلئے نیک شگون ہے۔جو سیاسی حلقے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں انہیں تو ملی مسلم لیگ اور تحریک لیبک پاکستان کو کھلے دل سے خوش آمدید کہنا چاہیے تھا۔مخالفت کا مطلب تو یہ ہوا کہ بعض سیاسی حلقے محض سیاسی دکانداری چلانا چاہتے ہیں۔انہیں ملک ، ملکی استحکام ، سیاسی و جمہوری روایات کے فروغ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔اگر آپ حقیقی سیاسی و جمہوری سوچ کے حامل ہے تو آپ کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے کہ ہر غیرجمہوری اور غیرسیاسی فرد سیاسی دھارے میں شامل ہوکر اپنے مقاصد کے حصول کیلئے جمہوری جدوجہد کا انتخاب کرے۔سیاسی قوتیں اس امر پر بھی بات کریں کہ طالبان جیسی فورسز اور طبقات اپنی روش چھوڑ کر جمہوری انداز اپنائیں۔تصور کیجئے ۔ اگر طالبان اسلحہ پھینک کر سیاسی عمل کا حصہ بنتے ہیں تو وطن پاک میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔ دہشت گردی جیسے کینسر سے نجات مل سکتی ہے۔ملک میں عدم استحکام کی فضا ،بے یقینی ،بدامنی ختم ہونے کے آثار پیدا ہوں گے۔ سیاست صبر ، حوصلہ ، برداشت،جدوجہد ،معاملہ فہمی، مذاکرات اوراختلاف رائے کاحق استعمال کرنا سکھاتی ہے۔یقینی طور مندر جہ بالا نئی سیاسی جماعتوں کے اضافے سے جمہوریت اور سیاسی عمل کو تقویت ملے گی اور دیگرغیرسیاسی و غیرجمہوری اور آمریت پسند حلقے سوچنے پر مجبور ہونگے۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

راحیل شریف آ رہے ہیں ؟

ارشد سلہری
پاکستان میں سیاسی جماعتیں ، این جی اوز ،سول سوسائٹیز ، مذہبی تنظیموں اور جماعتوں کا شمار نہیں ہے۔میڈیاجگہ جگہ موجود ہے۔جدید ٹیکنالوجی سمیت تیز ترین معلومات کے ذرائع ہیں۔شعور ،آگئی اور علم و تعلیم کی بھی بہتات ہے۔ گلی محلوں میں تعلیمی ادارے قائم ہیں ۔صحت کیلئے بے تحاشا ہسپتال اور کلینک موجود ہیں۔میٹرو بس اور موٹرویز ہیں۔شہری آبادیوں میں بڑے بڑے شاپنگ سنٹر ہیں۔ حب الوطنی کے شدید جذبات ہیں۔مذہب کے محافظ ہمہ تن تیار ہوتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔بطور پاکستانی ہم قوم نہیں ہیں ۔ بطور مسلمان ہم امت نہیں ہیں۔ ہماری سیاست ،ریاست ،قیادت،عبادت ،دیانت،صداقت،شرافت،امانت کو کیا ہوگیا ہے۔ ہم سیاسی ،سماجی اور مذہبی طور پر کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جارہے ہیں ۔کیا یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا۔ کیا ہم نے کوئی مقصد ،کوئی ہدف ،کوئی روڈمیپ ،کوئی فریم ورک نہیں طے کرنا ہے۔کیا یہ دھرتی بانجھ ہوچکی ہے۔کیا اس دھرتی سے کوئی جنم نہیں لے گا جو منزل کا تعین کرے۔ جو راستہ بتائے ، جو قوم کی تعمیر کرے۔جس کے پاس واضع کوئی پروگرام ہو۔جو سچ بولے۔یا پھر وہی ہوگا جو پہلے ہوتا آیا ہے۔ جیسا کہ افواہیں گردش میں ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نئی شفاف قومی حکومت کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔جو تین سال کیلئے ہوگی۔جنرل(ر) راحیل شریف سربراہ ہونگے۔جنرل رضوان کا استعفیٰ نئی حکومت کی تان بان کیلئے ہی تھا۔آمدہ قومی حکومت کے بڑے مقاصد جو طے کیے گئے ہیں ۔ اولین وترجیحی مقصد بلاتفریق احتساب ہے۔(جو کہ جنرل(ر) پرویزمشرف کا بھی مقصد تھا) دوئم پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام کا نفاد ہے۔ممکنہ طور پرجنرل (ر) راحیل شریف بااختیار ملکی صدر ہو سکتے ہیں۔تیسرا بڑا مقصد الیکٹوریل ریفارمز ہیں جس میں بائیومیٹرک سسٹم لاگو کیا جائے گاتاکہ انتخابی عمل کو شفاف بنایا جائے۔دس نکاتی فریم ورک میں چوتھا ایجنڈا کرپشن سے پاک عدلیہ،احتساب کمیشن اور تمام تر قومی اداروں کی بھل صفائی کرناہے۔کڑے احتساب کے بعد کرپشن اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی سے بیرونی قرضے ادا کرکے پاکستان کی معیشت منصوبہ بند بنائی جائے گی۔ سی پیک منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کامنصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔توانائی کابحران ختم کرکے معاشی اصلاحات کا نفاد کیا جائے گا اور ملک کی تعمیر نو کی جائے گی۔دلچسپ امر ہے کہ نئی قومی حکومت کی تین سال کیلئے توثیق بھی موجودہ پارلیمنٹ سے کراوئی جائے گی تاکہ نئی قومی حکومت کو قانونی اور آئینی تحفظ بھی دیا جا سکے۔پاکستان کی تاریخ میں کیا یہ سب کچھ ،پہلی بار ہونے جارہا ہے۔اس سے قبل جتنے غیر منتخب حکران آئے ہیں ۔ ان کے مقاصد بھی یہی تھے اور انہوں بھی بلاتفریق احتساب کا نعرہ لگایا تھا۔ حقیقت ہے ۔آج پاکستان میں قیادت کا بحران ہے۔ سیاسی جماعتیں افادیت کھوچکی ہیں ۔کوئی ایک سیاسی جماعت بھی عوامی امنگوں کے مطابق پروگرام نہیں رکھتی ہے اور نہ ہی کوئی عوامی ترجمانی کر رہی ہے۔ بلکہ نام نہاد سیاسی لیڈر گالم گلوچ اور طعنے بازی سے کام لے رہے ہیں ۔ جس سے سیاست مزید پراگندہ ہورہی ہے ۔ موجودہ سیاسی جماعتوں پر عوام کااعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی صورتحال اس قدر مبہم اور غیریقینی ہے کہ اگر الیکشن ہوئے بھی تو کوئی جماعت اس قابل نہیں ہوگی کہ حکومت بنا سکے۔مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ غیر جمہوری راستہ اختیار کیا جائے۔اور پھر جنرل(ر) راحیل شریف ہی کیوں ۔ اگر جنرل(ر) راحیل شریف ہی ضروری ہیں تو انہیں سیاسی دھارے میں شامل ہونا چاہیے ۔سیاسی جاعت بنائیں یا پہلے سے موجود اپنی ہم خیال پارٹی کی قیادت کریں۔مقتدرہ اگر کچھ سوچ رہی ہے تو قومی مفاد میں وسیع تر مشاورت کی جائے۔وگرنہ لازمی ہے ایک جانب سے ردعمل آئے گا۔نئے بحران جنم لے سکتے ہیں ۔اچھا ہوگا کہ شدت پسند جیسے ملی مسلم لیگ ، تحریک لیبک جیسی نئی جماعتوں کو سیاسی دھارے میں خوش آمدید کہا جائے۔یہ خوش آئند پہلو ہے کہ مذہبی شدت پسند سیاسی دھارے میں شامل ہورہے ہیں ۔طالبان سے بات کی جانی چاہیے کہ وہ ہتھیار پھینک کر سیاسی عمل میں آئیں۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment