ملی مسلم لیگ ،تحریک لیبک اور شرمین عبید چنائے

ارشد سلہری
لاہور کے ضمنی الیکشن میں محترمہ کلثوم نواز کے مدمقابل امیدواروں میں دو نئی سیاسی پارٹیوں تحریک لیبک پاکستان اور ملی مسلم لیگ کے امیدوار بھی میدان میں اترے۔انتخابی اشارئیے سے اس امر کی شہادتیں موصول ہوئیں کہ مذکورہ نئی سیاسی جماعتوں کے دونوں امیدواروں کو اس تناسب سے ووٹ پڑے ہیں کہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ تحریک لیبک پاکستان اور ملی مسلم لیگ کو پذیرائی ملی ہے۔دونوں نئی سیاسی جماعتوں کو ملنے والی پذیرائی سے بعض لبرل حلقوں ، میڈیا اور سول سوسائٹی میں بہت شور اٹھا کہ شدت پسند ہیں ۔ انتہا پسند ہیں وغیرہ ۔پارلیمنٹ میں جانا چاہتے ہیں ۔ انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔بعض نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ کی پست پناہی ہے۔زیادہ شور ملی مسلم لیگ کو لیکر اٹھایا جا رہا تھا ۔جس طرح آجکل قلم کار شرمین عبید چنائے کے ایک ٹویٹ پر ٹوٹ پڑے ہیں اور کالموں کی بھر مار کردی ہے۔ایسے لگتا ہے لکھنے والے موضوعات کے بانجھ پن کا شکار ہیں ۔شرمین عبیدچنائے پر تو جیسے ادھار کھائے بیٹھے تھے۔شرمین عبید چنائے نے وضاحت بھی دیدی ہے کہ اصل معاملہ کیا ہے ۔اس کا اپنے خاندان کے بارے میں کہنے کا مطلب کیا تھا۔آسکرایوارڈ حاصل کرنے کے بعد تو ویسے ہی وہ مجرم ٹھہری ہے۔جیسے ملالہ نوبل انعام ملنے کے بعد اب پاکستان کا رخ نہیں کر سکتی ہے۔کل کو کچھ ملالہ کہ منہ سے بھی نکل سکتا ہے۔ پھر ملالہ کی خیر نہیں ہے۔چگل کرچھوڑیں گے۔ملی مسلم لیگ اور تحریک لیبک پاکستان کو لیکر بھی بہت کچھ لکھا گیا ۔ کالموں کی منڈی کئی دن تک لگی رہی ۔ حافظ سعید ، مولانا خادم رضوی ، اشرف جلالی اور ان کے رفقاء کا سیاست میں آنے فیصلہ اتنا ہی خوش آئند اور بروقت ہے۔ جتنا افواج پاکستان کا سیاست سے دور رہنا ہے۔پاکستان جس صورتحال سے دوچار ہے۔مذہبی جماعتوں کی سیاسی دھارے میں شمولیت اور انتخابی سیاست میں آنے سے عدم برداشت ، شدت اور انتہا پسندی ختم ہوگی۔بات چیت کوفروغ ملیگا۔ مذہبی اور سیاسی قوتوں کو ایکدوسرے کو سننے کاموقع میسر ہوگا۔جس سے ایک توازن پیدا ہونے کی قوی امید کی جاسکتی ہے۔باالفاظ دیگرمذہبی قوتوں نے جمہوری طرز سیاست قبول کیا ہے۔یہ امر جمہوری قوتوں کی کامیابی ہے۔ اگر اسٹبلشمنٹ کا کیا دھرا ہے ۔تب اسٹبلشمنٹ بامراد ٹھہری ہے۔ جس نے جمہوری جدوجہد کی درست راہ دکھائی ہے۔یعنی اظہار تشکر کی ضرورت ہے۔جمہوریت کیلئے نیک شگون ہے۔جو سیاسی حلقے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں انہیں تو ملی مسلم لیگ اور تحریک لیبک پاکستان کو کھلے دل سے خوش آمدید کہنا چاہیے تھا۔مخالفت کا مطلب تو یہ ہوا کہ بعض سیاسی حلقے محض سیاسی دکانداری چلانا چاہتے ہیں۔انہیں ملک ، ملکی استحکام ، سیاسی و جمہوری روایات کے فروغ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔اگر آپ حقیقی سیاسی و جمہوری سوچ کے حامل ہے تو آپ کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے کہ ہر غیرجمہوری اور غیرسیاسی فرد سیاسی دھارے میں شامل ہوکر اپنے مقاصد کے حصول کیلئے جمہوری جدوجہد کا انتخاب کرے۔سیاسی قوتیں اس امر پر بھی بات کریں کہ طالبان جیسی فورسز اور طبقات اپنی روش چھوڑ کر جمہوری انداز اپنائیں۔تصور کیجئے ۔ اگر طالبان اسلحہ پھینک کر سیاسی عمل کا حصہ بنتے ہیں تو وطن پاک میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔ دہشت گردی جیسے کینسر سے نجات مل سکتی ہے۔ملک میں عدم استحکام کی فضا ،بے یقینی ،بدامنی ختم ہونے کے آثار پیدا ہوں گے۔ سیاست صبر ، حوصلہ ، برداشت،جدوجہد ،معاملہ فہمی، مذاکرات اوراختلاف رائے کاحق استعمال کرنا سکھاتی ہے۔یقینی طور مندر جہ بالا نئی سیاسی جماعتوں کے اضافے سے جمہوریت اور سیاسی عمل کو تقویت ملے گی اور دیگرغیرسیاسی و غیرجمہوری اور آمریت پسند حلقے سوچنے پر مجبور ہونگے۔

Advertisements
Posted in Uncategorized | Leave a comment

راحیل شریف آ رہے ہیں ؟

ارشد سلہری
پاکستان میں سیاسی جماعتیں ، این جی اوز ،سول سوسائٹیز ، مذہبی تنظیموں اور جماعتوں کا شمار نہیں ہے۔میڈیاجگہ جگہ موجود ہے۔جدید ٹیکنالوجی سمیت تیز ترین معلومات کے ذرائع ہیں۔شعور ،آگئی اور علم و تعلیم کی بھی بہتات ہے۔ گلی محلوں میں تعلیمی ادارے قائم ہیں ۔صحت کیلئے بے تحاشا ہسپتال اور کلینک موجود ہیں۔میٹرو بس اور موٹرویز ہیں۔شہری آبادیوں میں بڑے بڑے شاپنگ سنٹر ہیں۔ حب الوطنی کے شدید جذبات ہیں۔مذہب کے محافظ ہمہ تن تیار ہوتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔بطور پاکستانی ہم قوم نہیں ہیں ۔ بطور مسلمان ہم امت نہیں ہیں۔ ہماری سیاست ،ریاست ،قیادت،عبادت ،دیانت،صداقت،شرافت،امانت کو کیا ہوگیا ہے۔ ہم سیاسی ،سماجی اور مذہبی طور پر کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جارہے ہیں ۔کیا یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا۔ کیا ہم نے کوئی مقصد ،کوئی ہدف ،کوئی روڈمیپ ،کوئی فریم ورک نہیں طے کرنا ہے۔کیا یہ دھرتی بانجھ ہوچکی ہے۔کیا اس دھرتی سے کوئی جنم نہیں لے گا جو منزل کا تعین کرے۔ جو راستہ بتائے ، جو قوم کی تعمیر کرے۔جس کے پاس واضع کوئی پروگرام ہو۔جو سچ بولے۔یا پھر وہی ہوگا جو پہلے ہوتا آیا ہے۔ جیسا کہ افواہیں گردش میں ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نئی شفاف قومی حکومت کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔جو تین سال کیلئے ہوگی۔جنرل(ر) راحیل شریف سربراہ ہونگے۔جنرل رضوان کا استعفیٰ نئی حکومت کی تان بان کیلئے ہی تھا۔آمدہ قومی حکومت کے بڑے مقاصد جو طے کیے گئے ہیں ۔ اولین وترجیحی مقصد بلاتفریق احتساب ہے۔(جو کہ جنرل(ر) پرویزمشرف کا بھی مقصد تھا) دوئم پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام کا نفاد ہے۔ممکنہ طور پرجنرل (ر) راحیل شریف بااختیار ملکی صدر ہو سکتے ہیں۔تیسرا بڑا مقصد الیکٹوریل ریفارمز ہیں جس میں بائیومیٹرک سسٹم لاگو کیا جائے گاتاکہ انتخابی عمل کو شفاف بنایا جائے۔دس نکاتی فریم ورک میں چوتھا ایجنڈا کرپشن سے پاک عدلیہ،احتساب کمیشن اور تمام تر قومی اداروں کی بھل صفائی کرناہے۔کڑے احتساب کے بعد کرپشن اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی سے بیرونی قرضے ادا کرکے پاکستان کی معیشت منصوبہ بند بنائی جائے گی۔ سی پیک منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کامنصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔توانائی کابحران ختم کرکے معاشی اصلاحات کا نفاد کیا جائے گا اور ملک کی تعمیر نو کی جائے گی۔دلچسپ امر ہے کہ نئی قومی حکومت کی تین سال کیلئے توثیق بھی موجودہ پارلیمنٹ سے کراوئی جائے گی تاکہ نئی قومی حکومت کو قانونی اور آئینی تحفظ بھی دیا جا سکے۔پاکستان کی تاریخ میں کیا یہ سب کچھ ،پہلی بار ہونے جارہا ہے۔اس سے قبل جتنے غیر منتخب حکران آئے ہیں ۔ ان کے مقاصد بھی یہی تھے اور انہوں بھی بلاتفریق احتساب کا نعرہ لگایا تھا۔ حقیقت ہے ۔آج پاکستان میں قیادت کا بحران ہے۔ سیاسی جماعتیں افادیت کھوچکی ہیں ۔کوئی ایک سیاسی جماعت بھی عوامی امنگوں کے مطابق پروگرام نہیں رکھتی ہے اور نہ ہی کوئی عوامی ترجمانی کر رہی ہے۔ بلکہ نام نہاد سیاسی لیڈر گالم گلوچ اور طعنے بازی سے کام لے رہے ہیں ۔ جس سے سیاست مزید پراگندہ ہورہی ہے ۔ موجودہ سیاسی جماعتوں پر عوام کااعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی صورتحال اس قدر مبہم اور غیریقینی ہے کہ اگر الیکشن ہوئے بھی تو کوئی جماعت اس قابل نہیں ہوگی کہ حکومت بنا سکے۔مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ غیر جمہوری راستہ اختیار کیا جائے۔اور پھر جنرل(ر) راحیل شریف ہی کیوں ۔ اگر جنرل(ر) راحیل شریف ہی ضروری ہیں تو انہیں سیاسی دھارے میں شامل ہونا چاہیے ۔سیاسی جاعت بنائیں یا پہلے سے موجود اپنی ہم خیال پارٹی کی قیادت کریں۔مقتدرہ اگر کچھ سوچ رہی ہے تو قومی مفاد میں وسیع تر مشاورت کی جائے۔وگرنہ لازمی ہے ایک جانب سے ردعمل آئے گا۔نئے بحران جنم لے سکتے ہیں ۔اچھا ہوگا کہ شدت پسند جیسے ملی مسلم لیگ ، تحریک لیبک جیسی نئی جماعتوں کو سیاسی دھارے میں خوش آمدید کہا جائے۔یہ خوش آئند پہلو ہے کہ مذہبی شدت پسند سیاسی دھارے میں شامل ہورہے ہیں ۔طالبان سے بات کی جانی چاہیے کہ وہ ہتھیار پھینک کر سیاسی عمل میں آئیں۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

ہارس ٹریڈنگ ،بلاول بمقابلہ عمران خان 

ا رشد سلہر ی
پا کستان کی تا ر یخ میں واحد سیاسی جماعت پیپلز پا ر ٹی ہے جس نے غر یب عو ا م ا و ر عا م لو گو ں کی با ت کی ا نہیں حقو ق د ینے کیلئے جد و جہد کا آ غا ز کیا ،نظر یا تی سیا ست کی بنیا د ر کھی۔ محنت کشو ں ، ہا ر یو ں، کسا نو ں ا و ر عا م لو گو ں نے پیپلز پا ر ٹی کے سا تھ جذ با تی و ا بستگی پید ا کر لی۔ جو کسی نہ کسی شکل میں آ ج بھی نظر آ تی ہے ۔ ضیا ئی آ مر یت ا و ر قا ئد عو ا م ذ و ا لفقا ر علی بھٹو کی شہا د ت کے بعد پیپلز پا ر ٹی ر ا ستہ تبد یل کر تی گئی ا و رآ ج پیپلز پا ر ٹی نظر یا تی سیا ست کی ا مین ر ہی ہے او ر نہ ہی محنت کشو ں ، ہا ر یو ں ، کسا نو ں ا و ر غر یب عو ا م کی نظر یا تی جما عت ہے ۔ آ ج کی پیپلز پا ر ٹی محض ا قتد ا ر کے ا یو ا نو ں تک جا نیو ا لے ر ا ستو ں کی مسا فر ہے ۔ پیپلز پا ر ٹی کی قیا د ت مکمل طو ر پر ا قتد ا ر و مفا د ا ت کی پجا ر ی سر ما یہ د ا ر و ں ا و ر ا شر ا فیہ پر مبنی ہے ۔ پیپلز پا ر ٹی کی ذ یلی تنظیمو ں پی ا یس ا یف ، پی و ا ئی او، لیبر و نگ یا د یگر تما م تر مفا د ا تی گر و ہ بن کر ر ہ گئے ہیں ۔ پیپلز پا ر ٹی بلا شبہ پا کستا ن کے عا م لو گو ں کی ر و ا یت ہے ۔لیکن یہ رو ا یت د م تو ڑ ر ہی ہے ۔ جس کا مظا ہر ہ پچھلے د و تین سا لو ں سے د یکھا جا سکتا ہے کہ پیپلز پا ر ٹی کے خلا ف نو جو ا نو ں ا و ر عا م لو گو ں نے پا کستا ن تحر یکِ ا نصا ف کی جا نب ر جو ع کیا ۔ تحر یکِ ا نصا ف کی جا نب عو ا می تو جہ سے لگتا تھا کہ مستقبل کی پیپلز پا ر ٹی ا ب تحر یکِ ا نصا ف ہی ہو گی ۔لیکن عمر ا ن خا ن کو ا قتد ا ر کی جلد ی ہے ۔سو تحر یکِ ا نصا ف نے نو جو ا نو ں ا و ر عا م عو ا م کو نظر ا ند ا ز کر کے سر ما یہ د ا ر ، صنعت کا ر ا و ر جگا د ر ی سیا ستد ا نو ں کے سا تھ بیٹھنا منا سب سمجھا ا و ر تحر یکِ ا نصا ف کو خا لصتاً ا شر ا فیہ کی پا ر ٹی بنا د یا ۔ عمر ا ن خا ن کے ا س عمل سے نو جو ا نو ں کو با لخصو ص ا و ر عا م لو گو ں کو با لعمو م ما یو سی کا سا منا کر نا پڑ ا ہے ۔ جس سے تحر یکِ ا نصا ف گلی محلو ں ا و ر د یہا تو ں میں پہنچنے سے پہلے ہی و ا پس ہو گئی ۔ شہر و ں میں بھی عا م لو گو ں نے تحر یکِ ا نصا ف سے قد م پیچھے ہٹا لئے ہیں۔ آ ج صو ر تحا ل یہ ہے کہ تحر یکِ ا نصا ف ایک خا ص طبقہ کی جماعت بن گئی ہے ۔ عمو می و ا بستگی کے علا و ہ تحر یکِ ا نصا ف کا کو ئی و ر کر یا مقا می سطح پر فعا ل کا ر کن نہیں ہے ۔ تحر یکِ ا نصا ف کا جو بلبلہ بنا یا گیا تھا ا س پر عو ا م نے ا پنے ا علیٰ شعو ر کا اظہارکیاہے ۔عمر ا ن خا ن کے با ر ے میں آ ج عو ا می خیالات بہت مختلف ہیں۔ تمام تر خرابیوں کے باوجود یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں عوامی وابستگی کی حامل مذکو رہ جماعتیں ہی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری جوان قیادت آنے سے پیپلزپارٹی میں نئی جان پڑی ہے۔ دوسری جانب عمران خان ہیں ۔ایک جیسی تقاریر کرتے ہیں۔ گزشتہ روز جلسہ سے خطاب کے دوران بلاول نے عمران اور نواز شریف کو تنقید کانشانہ بنایا ۔یہی کچھ عمران خان کرتے ہیں۔ عوامی شعور کا تجزیہ کیا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ عوام دونوں میں واضح لکیر نہیں کھینچنے سے ہچکچا رہے ہیں۔اگر عمران خان نے کوئی واضح پروگرام نہیں دیا ہے۔بلاول بھی اپنے نانا اور ماں کے برعکس دوٹوک کوئی پروگرام اور لائحہ عمل دینے سے گریزاں ہے۔ بلاول کے اطراف میں بھی ویسے ہی لوگ ہیں جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔طاقت کا شرچشمہ عوام ہیں۔یہ بات ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔عمران خان ہو یا بلاول دونوں یہ یقین پختہ کرچکے ہیں کہ طاقت کا شرچشمہ امیپائر ہے۔لہذا چندہ ضرورت نہیں ہے کہ عوام کو پروگرام دیا جائے یا کوئی وعدے کیے جائیں۔گھوڑوں کی ریس ہے جو جیتا وہ سکندر ہوگا۔
Posted in Uncategorized | Leave a comment

پیپلز پا رٹی پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ کے حضور

ارشد سلہری
پیپلزپارٹی میں نئی تنظیم سازی کی ابھی بازگشت تھی ۔ بلاول بھٹو زرداری چیئرمین بن چکے تو پنجاب میں جیالے قمرزمان کائرہ کو صوبائی صدر کیلئے موزوں قرار دینے لگے تھے۔ ندیم افضل چن بھی فیورٹ تھا۔ پنجاب میں تنظیم سازی ہوئی تو قمرزمان کائرہ صوبائی صدر اور ندیم افضل چن جنرل سیکرٹری بنادیئے گئے۔ جیالوں نے بلاول کے فیصلے پر جشن منایا کہ نظریاتی اور حقیقی لیڈرشپ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اب امتحان نئی لیڈر شپ کا تھا کہ ڈویژنل ، اضلاع اور تحصیل کی سطح پر تنظیم سازی کی جائے ۔ قمرزمان کائرہ کے صدر بننے سے آج تک تنظیم سازی کا جائزہ لیا جائے تو جو صورتحال سامنے آتی ہے ۔ انتہائی مایوس کن ہے۔ پنجاب میں صوبائی تنظیم سمیت تمام ڈویژن اور اضلاع کی تنظیمیں نہ صرف ادھوری ہیں بلکہ نقائص سے بھر پور ہیں ۔ جس سے قمرزمان کائرہ اور ندیم افضل چن کی تنظیم سازی میں عدم دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ قمرزمان کائرہ نے تاحال صوبائی تنظیم بھی مکمل نہیں کی ہے جبکہ دوسر ی جانب موصوف نے کسی ضلع کا کوئی تنظیمی دورہ نہیں کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا ۔ صوبائی صدر اور جنرل سیکرٹری آپس میں اضلاع کو تقسیم کرلیتے اور جب تک تنظیمیں مکمل نہ ہوتیں اپنے اپنے اضلاع میں موجود رہتے ۔ تنظیمی عہدوں کے امیدواروں سے خود انٹرویوز کرتے اور ہر ضلع کی تنظیم مکمل کر کے ضلع سے باہر نکلتے اور تحصیل کی تنظیم سازی کو بھی خود مانیٹر کرتے ۔ اس عمل سے ایک تو مضبوط تنظیمیں تشکیل پاتیں اور دوسرا گروپ بندی کی کھچری بھی نہ پکتی ۔ جس کا آج ہر سطح کی تنظیم شکار ہے۔ تنظیمی سطح صوبائی کی بے خبری کی یہ صورت ہے راولپنڈی ڈویژن کا صدر اس شخص کو بنایا گیا جو صدر بنتے ہی پارٹی چھوڑ گیا ۔ اسی طرح راولپنڈی کی ضلعی تنظیم میں بھی کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔ جس سے پارٹی میں سیدھار کی بجائے بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ ضلعی صدر اور جنرل سیکرٹری صرف فوٹو سیشن اکٹھا کروا لیتے ہیں ۔ دوسری کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔ تنظیم سازی کا عمل شدید اختلافات کا شکار ہے۔ ضلعی تنظیم ابھی تک نامکمل ہے۔ تحصیل کی تنظیمیں ادھوری پڑی ہیں۔ راولپنڈی سٹی کی تنظیم کے سوا کوئی تنظیم مکمل نہیں کی گئی ہے۔ طرفہ تماشا ہے کہ صوبائی قیادت ساری صورتحال سے لاتعلق نظر آتی ہے۔ قمرزمان کائرہ شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ تنظیم خود بخود ہی بن جائے گی۔ یا تنظیمیں بنا کر ان کے حضور پیش کردی جائیں گی۔ کائرہ صاحب اگر آپ چاہتے ہیں کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی سر اٹھائے تو اس کیلئے باہر نکلنا پڑے گا۔ جب تک آپ اپنی تنظیم مکمل نہیں کرتے ہیں تب تک پیپلزپارٹی میں جان نہیں پڑ سکتی ہے۔ پیپلزپارٹی اب کوئی بھٹو نہیں ہے۔ اب تنظیم ہوگی تو نتائج حاصل ہونگے۔ دوسرے فارمولے اب کہیں کام نہیں آئیں گے ۔ اگر آپ تنظیم سازی پر توجہ دیں تو راقم پیشگی خوشخبری دے رہا کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کو فتح سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔جذباتی تقاریر اور نعرے بازی سے اب کی بار کام چلنے والا نہیں ہے۔ اپوزیشن پیپلزپارٹی کرے یا تحریک انصاف اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پارٹی کی اندورنی پرتوں میں صف بندی سے ضرور فرق پڑے گا۔ مندرجہ بالا باتوں سے آپ اچھی طرح آگاہ ہیں ۔ لیکن معلوم نہیں ہے ۔ کیوں آپ چپ سادھے ڈنگ ٹپاو پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور ٹوکن مظاہروں پر اکتفا کرتے ہوئے پارٹی چلانے کی کوشش میں نظر آتے ہیں ۔ پارٹی جیالوں نے جو توقعات آپ سے وابستہ کر رکھی تھیں اس کے مظاہر کہیں دیکھائی نہیں دے رہے ہیں ۔ وجوہات کیا ہیں ۔ کارکن نہیں جانتے ہیں ۔ کارکن تو قیادت کی جانب دیکھتے ہیں ۔ کائرہ صاحب کارکنوں میں تنظیم سازی کے امور میں قیادت کی عدم دلچسپی سے مایوسی پائی جاتی ہے۔ مایوس کارکنوں کے ساتھ بڑے بڑے دعوے اور بڑیکیں اور فتح کی امید کو کیا نام دیا جائے۔ کبھی فرصت کے لمحوں میں غور ضرور کرنا ۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

پیپلزپارٹی کا دکھ

 ارشد سلہری
پیپلزپارٹی نے مدمقابل جماعتوں اور محالفین کے طرز سیاست کا جواب ان ہی کی زبان میں دینے کی بجائے ہمیشہ جمہوری اصولوں کی پاسداری کو مقدم رکھا اور ہمیشہ کئی محاذ پر مات کھائی ہے۔ انتقامی سیاست سے گریز کیا ہے۔شہید بے نظیر بھٹو نے تو موم کی گڑیا کا کردار نبھایا۔ باپ کے قتل کا غم ، بھائیوں کی جدائی ، شوہر کی قید تنہائی، پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کا قتل اور اپنے اوپر ہونے والے بیشمار مظالم کے باوجود شہید رانی نے پاکستان کے استحکام ، غریب عوام کے حقوق کی خاطر نواز شریف کو بھائی قرار دیااور سیاست کی نئی طرح ڈالنے کیلئے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔ اس کے بر عکس مدمقابل قوتوں نے پروپیگنڈا وار میں اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے شرمناک کردار ادا کیا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت سمیت کارکنوں کیخلاف جھوٹے مقدمات بنا کر پابند سلاسل کیا۔ قومی اور عوامی منصوبوں کو محض اس بنا پر سبوتاژ کیا کہ پیپلزپارٹی کے شروع کردہ تھے۔ پیپلزپارٹی کو میدان سیاست سے باہر کرنے کیلئے غیرجمہوری ہتھکنڈے استعمال کیے گئے ۔ کبھی آئی جے آئی بنا کر سیاستدانوں کی خریدو فروخت کی گئی اور کبھی چھانگا منگا میں منڈی سجا کر پارلیمنٹ کے کارکنان کی بولیاں لگائی گئیں۔ قتل و غارت گری کے بازار گرم کیے گئے۔ کبھی مذہبی انتہا پسندی کو پیپلزپارٹی کے مقابل لا کر حق و باطل کا بکھیڑا کھڑا کیا گیا۔ طالبان سے ہاتھ ملا کر پیپلزپارٹی کی قیادت کو راستے سے ہٹانے سمیت ہر وہ کوشش کی گئی جس پیپلزپارٹی کا نام و نشان باقی نہ رہے ۔ اتنے زخم کھانے کے بعد بھی پیپلزپارٹی نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور جب محالفین ہر طرف سے گھیرے میں آچکے تھے تو پیپلزپارٹی ہی نے غیر ت جمہوریت میں رائے ونڈ کو خون آشام غیرجمہوری آسیب سے نجات دلائی۔ یہ وہی آصف زرداری تھے جنہیں ناکردہ گناہوں کے جرم میں قید و بند رکھا گیا اور بے شمار جھوٹے مقدمات میں پھسا کر جس کی زندگی عذاب بنادی گئی تھی ۔ دنیا نے کھلی آنکھوں سے دیکھا پھر وہی آصف زرداری نے ہر موڑ پر نواز شریف کی گرتی ہوئی دیواروں کو کندھا دیاہے۔یہ پیپلزپارٹی جمہوری سیاست ہے یا پیپلزپارٹی کا جرم ہے ۔ فیصلہ عوام کریں گے کہ 1990کی سیاست کا خالق کس رعایت کا مستحق ہے۔ جس نے آج بھی روش نہیں بدلی ہے۔ جس کے میڈیا منیجر آج بھی نفرت کا کاروبار کر رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی ہے ۔ جس نے میڈیا منیجر رکھنے کا تکلف ہی نہیں کیا ہے۔ محالفین کے خلاف میڈیا پروپیگنڈا تو دور کی بات ہے۔ جو ڈھنگ سے اپنا دفاع بھی نہیں کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی اپنا میڈیا سیل ضرور بناتی ہے لیکن کبھی اس میں کوئی پروفشنل صحافی یا تجربہ کار میڈیا منیجر نہیں بیٹھایا ہے۔ خدا جانے پیپلزپارٹی میڈیا کے لوگ کہا ں سے لاتی ہے۔ حالانکہ پیپلزپارٹی کے ہم خیال منجے ہوئے صحافی بے شمار ہیں ۔ یہ نہیں کہ پیپلزپارٹی مدمقابل قوتوں سے انہی کی زبان میں بات کرے مگر یہ ضروری ہے کہ اپنا میڈیا مضبوط کرے اور کم ازکم اپنا بھرپور دفاع کرے ۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں میڈیا سیل انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ میڈیا سیل بنیادی طور پر پروپیگنڈا سیل ہوتا ہے ۔ پروپیگنڈا ضروری نہیں کہ منفی ہو۔ پروپیگنڈا اپنے پروگرام ، منشور اور پارٹی کی پرموشن کیلئے بھی کیا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کا دکھ یہی ہے کہ پیپلزپارٹی سب کچھ ہونے کے باوجود مات کھانے پر تلی ہوئی نظر آتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چین کے ساتھ معاہدے ، ملازمتوں کی فراہمی ، بے نظرانکم سپورٹ سمیت بے شمار ایسے کام ہیں جس سے پیپلزپارٹی ایکبار پھر عوام میں مقبول ہو سکتی ہے ۔ مگر اس کیلئے پیپلزپارٹی کو پریس ریلیز میڈیا نہیں بلکہ حقیقی میڈیا جو موقع بہ موقع پیپرز جاری کرے ۔ میڈیا پارٹی کے مصوبہ جات اور محالفین کی کمزوریوں کو اجاگر کرے ۔ پارٹی کے اندر نیوز لیٹرز اتارے ۔ پروگرامز کا انعقاد کرے ۔اپنی قوت اور صلاحیت سے غفلت ہی اصل میں پیپلزپارٹی کا دکھ ہے۔
Posted in Uncategorized | 2 Comments

دس ارب کا سوال اور بریکٹ کی تحریریں

ارشد سلہری
سیاسی میدان پاکستان کے قیام کے روز سے ہی کچھ مشکوک رہا ہے۔ فلورکراسنگ سمیت سیاستدانوں کی وفا داریاں تبدیل کرنے کیلئے خفیہ ہاتھ کام کرتے رہے ہیں۔ راولپنڈی سے تعلقات کا الزام ہر سیاستدان اور جماعت کے سر کسی نہ کسی حوالے سے ضرور آیا ہے۔ واشنگٹن سے یاری کے طعنے بھی دیئے جاتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 1990میں سیاست کی نئی طرح ڈالی گئی ۔ سیاسی وفاداریوں کو بدلنے کیلئے جدید رجحانات در آئے ۔فلور کراسنگ اور پارلیمان کے ووٹوں کی بولی لگنے لگی ۔ راولپنڈی کی زیر سرپرستی جمہوری ا قدار کے مقابل بڑے اتحاد کی تشکیل کیلئے سیاسی منڈی کی اختراع سامنے آئی ۔ سنا گیا ہے کہ لاہور کے مضافات میں چھانگا مانگا کا پر فضا مقام سیاسی منڈی کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ اس وقت خریدار کی جانب سے فی نگ ایک کر وڑ روپے ریٹ لگایا تھا۔ قیمت پر بڑی ہا ہا کار مچی تھی۔چھا نگا مانگا کو آج بھی بطور مثال لیا جاتا ہے۔ چھانگا مانگا کی جدید سیاست کے بانی میاں نواز شریف کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو چکا تھا کہ جدہ یاترہ نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ سچ بھی ہے۔ میاں صاحب بہت بدل چکے ہیں ۔ پہلے سے زیادہ سیانے ہوگئے ہیں۔ جج ، جرنیل ، جرنلسٹس سمیت سیاسی لوگ سب اب میاں صاحب کی عزت کرتے ہیں ماسوائے نئے سیاستدان عمران خان کے جو کھلن کو مانگے ہے چاند ، دس ارب اچھی خاصی رقم ہے۔ کوئی پوچھے انکار کرکے کیا پایا ہے۔ فائدہ سیاست کا، لگتا ہے ۔ بندے کا دماغ نہیں ہے۔ بھائی یہ دور کون سا جا رہا ہے۔ دس ارب قیمت ٹھیک ہی تو ہے۔ زیادہ کوئی نہیں دے گا۔کسی اور نے پکڑ لیے تو ۔ بات نکلتی ہے تو دور تلک جاتی ہے۔ پھر وہی ہوا۔ پیش کار منڈی کے اصول کا پابند ، گاہک ایک نہیں سو ، مقصود مطلوب کام ہے ۔ عمران نہیں تو کوئی اور سہی ۔ پانامہ لیکس کون سا کسی کا ذاتی مسلہ ہے۔ ڈان لیکس کا مسلہ حل ہو سکتا ہے تو باقی مسائل کیا رہ جاتے ہیں ۔دس ارب کا سوال اب اتنا پیچیدہ نہیں رہا ہے۔ اس امر کی شہادت میاں صاحب کی مسکراہٹ اور خوداعتمادی میں خاطر خواہ اضافہ اور میاں صاحب کی فرینڈلی گوشمالی بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ ہاتھ کا دیا ہوا ہی کام آتا ہے۔ اشاریے تو بہت ہیں جنہیں ضبط تحریر میں لانا حب الوطنی کو مشکوک بنانے کے مترادف ہوگا،
پیپلزپارٹی کی طرف انگلی کی جائے تو جمہوریت کے پائیدان کو کمزور کرنے کی سازش کا الزام آتاہے۔ قومی ریاستی اداروں سے غدار ی کا میں سوچ بھی نہیں سکتا ہوں۔ پھر جب عوام کے جذبات ، عوام کی امیدوں اور خوابوں کی جانب دھیان جاتا ہے تو اس پر بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ ، چمن سے آ رہی ہے بو کباب ، کسی بلبل کا دل جلا ہوگا۔
ایڈیٹرز اور قارئین کیلئے ضروری نوٹ: آپ جناب سرکار کی جانب سے اعتراض آسکتا ہے۔ درج ذیل تحر یر میں خاص جملہ ، کنایہ اور استعارہ کے موقع پر کوئی بریکٹ نہیں لگایا گیا ہے ۔ نہ ہی کومے کا استعمال کیا ہے۔ حاشیہ بازی بھی نہیں کی گئی ہے۔ اعتراض درست ہے ۔ مگر حضور والا آج زمانہ بدل گیا ہے۔ تمام امکانات سامنے آچکے ہیں ۔ شرافت ، دیانت ، امانت ، اصول ، اخلاقیات ، انقلاب ، جمہوریت اور حب الوطنی کو جو کبھی معانی پہنائے جاتے رہے ہیں ۔ آج وہ معانی عملی تصویر بن کر سامنے جلوہ گر ہیں ۔ بریکٹوں میں لکھنے کی ضرورت ختم ہوچکی ہے۔ جو پہلے حساس ادارہ تھا ۔ اب وہ پاکستان کی فوج ہے۔ میاں نوازشریف کی اصولی سیاست کا بھانڈہ بھی چوراہے میں پھوٹ گیا ہے۔ خفیہ ہاتھ بھی اب خفیہ نہیں رہے ہیں ۔ تو پھر بریکٹ میں لکھنے کو بچا ہی کیا ہے

Posted in Uncategorized | Leave a comment

Articles

This gallery contains 10 photos.

Rate this:

Gallery | Leave a comment